صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 366 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 366

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة فَصَاحِبُ الْغَارِ يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ وَأَمَّا أُمُّهُ ابن زبیر کی بیعت کر لو۔ میں نے کہا: یہ امر فَذَاتُ النِّطَاقِ يُرِيدُ أَسْمَاءَ وَأَمَّا (خلافت) عبد اللہ بن زبیر سے کچھ دور نہیں۔ اُن خَالَتُهُ فَأَمُّ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ عَائِشَةَ کے باپ جو ہیں تو وہ نبی صلی علیم کے حواری ہیں۔ وَأَمَّا عَمَّتُهُ فَزَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اس سے ان کی مراد حضرت زبیر تھی اور ان کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ خَدِيجَةً۔ وَأَمَّا عَمَّةُ نانا غار والى - ساتھی ہیں۔ اُن کی مراد حضرت ابو بکر سے تھی۔ ان کی ماں جو ہیں وہ ذات النطاق یعنی النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَدَّتُهُ کمر بند والی ہیں۔ ان کی مراد حضرت اسماء سے يُرِيدُ صَفِيَّةَ ثُمَّ عَفِيفٌ فِي الْإِسْلَامِ تھی، ان کی جو ، ان کی جو خالہ ہیں تو وہ اُم المومنین ہیں، ان کی قَارِى لِلْقُرْآنِ۔ وَاللَّهِ إِنْ وَصَلُّونِي مراد حضرت عائشہ سے تھی۔ اُن کی پھو بھی جو ہیں وَصَلُّونِي مِنْ قَرِيبٍ وَإِنْ رَبُّونِي وہ نبی صلی علیم کی سلی اعلی رام کی زوجہ ہیں ان ان کی مراد حضرت رَبُّونِي أَكْفَاء كِرَامٌ۔ فَآثَرَ عَلَيَّ خدیجہ سے تھی اور نبی صلی الم کی پھو بھی ان کی صا الترسم علیوم التَّوَيْتَاتِ وَالْأَسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ دادی ہیں ان کی مراد حضرت صفیہ سے تھی۔ پھر يُرِيدُ أَبْطُنَا مِنْ بَنِي أَسَدٍ بَنِي تُوَيْتٍ وہ اسلام میں پاک دامن رہے۔ قرآن کے قاری وَبَنِي أُسَامَةَ وَ مِنْ أَسَدٍ إِنَّ ابْنَ أَبِي ہیں۔ اللہ کی قسم اگر انہوں نے مجھ سے اچھا الْعَاصِ بَرَزَ يَمْشِي الْقُدَمِيَّةَ يَعْنِي سلوک کیا تو انہوں نے ایک قریبی رشتہ دار سے عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ وَإِنَّهُ لَوَّى صلہ رحمی کا حق ادا کیا۔ اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو شریف ہمسر ، رشتہ داروں نے مجھ پر حکومت ذَنَبَهُ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ۔ کی۔ لیکن (حضرت عبد اللہ بن زبیر نے تو بتات اور اسامات اور حمیدات کو مجھ پر مقدم کیا ہے۔ اس سے ان کی مراد بنو اسد، بنو تو یت اور بنو اسامہ طرفاه: ٤٦٦٤ ، ٤٦٦٦- کے گھرانے تھے۔ دیکھو ابو العاص کا بیٹا یعنی عبد الملک بن مروان سبقت لئے جا رہا ہے اور یہ تو ایک جگہ کھڑے ہو گئے ہیں یعنی ابن زبیر۔ ٤٦٦٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ۴۶۶۶ محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان