صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 365 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 365

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۶۵ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ابن جریج سے ، ابن جریج نے (عبد اللہ بن ابی ملیکہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ حِينَ وَقَعَ سے ، اُنہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ قُلْتُ أَبُوهُ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب اُن کے اور الزُّبَيْرُ وَأُمُّهُ أَسْمَاءُ وَخَالَتُهُ عَائِشَةُ (حضرت عبد اللہ بن زبیر کے درمیان تنازعہ ہوا، وَجَدُّهُ أَبُو بَكْرٍ وَجَدَّتُهُ صَفِيَّةُ۔ فَقُلْتُ میں نے کہا: اُن کے باپ حضرت زبیر ہیں، ان کی لِسُفْيَانَ إِسْنَادُهُ ؟ فَقَالَ حَدَّثَنَا۔ ماں حضرت اسماء، ان کی خالہ حضرت عائشہ نہیں، ان ريم کے نانا حضرت ابو بکر، ان کی دادی حضرت صفیہ فَشَغَلَهُ إِنْسَانٌ وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ جُرَيْجٍ۔ ہیں۔ (عبد اللہ بن محمد کہتے تھے : میں نے سفیان طرفاه ٤٦٦٥، ٤٦٦٦ بن عیینہ) سے کہا: اس حدیث کی سند کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا۔ (کہتے تھے کہ ) اتنے میں کسی آدمی نے ان کو دوسری باتوں میں لگا لیا اور ابھی یہ نہیں کہا تھا کہ ابن جریج نے۔ ٤٦٦٥ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۶۶۵ : عبد اللہ بن محمد (جعفی) نے مجھ سے بیان قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا کیا، کہا: یحییٰ بن معین نے مجھے بتایا کہ حجاج نے ہم حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ أَبِي سے بیان کیا۔ ابن جریج نے کہا: (عبد اللہ ) بن مُلَيْكَةً وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ فَغَدَوْتُ ابی ملیکہ کہتے تھے: ان دونوں (حضرت عبداللہ بن عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَتُرِيدُ أَنْ زِیر اور حضرت عبداللہ بن عباس) کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو میں (حضرت عبد اللہ ) بن عباس تُقَاتِلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَتُحِلَّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ؟ کے پاس صبح کو گا صبح کو گیا۔ میں نے پوچھا: کیا آپ حضرت فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ۔ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ ابن زبیر سے لڑنا چاہتے ہیں؟ اور اللہ کے حرم کو وَبَنِي أُمَيَّةَ مُحِلِّينَ، وَإِنِّي وَاللهِ لَا جائز قرار دیں گے؟ انہوں نے کہا: معاذ اللہ اللہ أُحِلُّهُ أَبَدًا قَالَ قَالَ النَّاسُ بَايِعُ نے یہ بات ابن زبیر اور بنی امیہ کے لیے مقدر لِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقُلْتُ وَأَيْنَ بِهَذَا الْأَمْرِ کی ہے کہ وہ حرم کے اندر لڑائی کو جائز رکھیں عَنْهُ، أَمَّا أَبُوهُ فَحَوَارِيُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اور میں اللہ کی قسم اس میں لڑنا کبھی روانہ رکھوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الزُّبَيْرَ وَأَمَّا جَدُّهُ گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: لوگ کہتے ہیں :