صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 364
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - كتاب التفسير / براءة ہیں۔ اُن ( مہینوں) میں سے چار عزت والے مہینے ہیں۔ یہی مضبوط قائم رہنے والا طریق ہے۔ سوان (مہینوں) میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کیا کرو اور تمام مشرکوں سے جنگ کرو۔ اسی طرح جس طرح کہ وہ سب کے سب مل کر تم سے لڑتے رہے ہیں اور یاد رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ الدین القیم کے معنی ہمیشہ قائم رہنے والا طریق ہیں۔ روایت زیر باب میں زمانے کے چکر لگانے اور اپنی اصلی صورت میں عود کرنے سے مراد یہ ہے کہ طریقہ نئی اب باطل ہے اور حرمت والے مہینوں کو اپنی دنیاوی نفسانی اغراض کی وجہ سے آگے پیچھے یا حلال حرام نہیں کیا جائے گا۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب الحج تشریح باب ۳۳۔ باب ۹ : ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) جبکہ وہ دونوں غار میں تھے اور جبکہ وہ اپنے ساتھی ( ابو بکر سے کہہ (ابوبکر) رہا تھا کہ کسی گذشتہ بھول چوک پر غم نہ کرو اللہ یقینا ہمارے ساتھ ہے (التوبۃ:۴۰) مَعَنَا (التوبة: ٤٠) نَاصِرُنَا السَّكِينَةُ مَعَنَا کے معنی ہیں ہمارا مدد گار ہے۔ سکینہ فَعِيلَةٌ مِّنَ السُّكُونِ۔ فَعِيلَةٌ کے وزن پر سکون سے مشتق ہے۔ ٤٦٦٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۶۶۳ : عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حبان حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ( بن ہلال باہلی ) نے ہمیں بتایا کہ ہمام ( بن يحي ) حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الله نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت نے ہمیں بتایا کہ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ اللهِ فِي الْغَارِ حضرت انس نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت الله رضي عنه ۔ فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ قُلْتُ يَا ابو بکر نے مجھ سے بیان کیا اُنہوں نے کہا: رَسُولَ اللهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ میں غار میں نبی صلی ٹیم کے ساتھ تھا۔ اتنے میں رَآنَا قَالَ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔ میں نے مشرکوں کے پاؤں دیکھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی اپنا پاؤں اٹھائے طرفاه ٣٦٥٣ ٣٩٢٢- تو ہمیں دیکھ لے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا ایسے دو شخصوں کی نسبت کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔ ٤٦٦٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۶۶۴ : عبد اللہ بن محمد (جعفی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ کیا۔ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے