صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 364 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 364

Fyr ۶۵ - كتاب التفسير / براءة صحیح البخاری جلد ۱۰ ہیں۔اُن (مہینوں) میں سے چار عزت والے مہینے ہیں۔یہی مضبوط قائم رہنے والا طریق ہے۔سوان (مہینوں) میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کیا کرو اور تمام مشرکوں سے جنگ کرو۔اسی طرح جس طرح کہ وہ سب کے سب مل کر تم سے لڑتے رہے ہیں اور یاد رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔الدين القیم کے معنی ہمیشہ قائم رہنے والا طریق ہیں۔روایت زیر باب میں زمانے کے چکر لگانے اور اپنی اصلی صورت میں عود کرنے سے مراد یہ ہے کہ طریقہ نئی اب باطل ہے اور حرمت والے مہینوں کو اپنی دنیاوی نفسانی اغراض کی وجہ سے آگے پیچھے یا حلال حرام نہیں کیا جائے گا۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الحج تشریح باب ۳۳۔باب ۹ : ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْهُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) جبکہ وہ دونوں غبار میں تھے اور جبکہ وہ اپنے ساتھی (ابوبکر) سے کہہ رہا تھا کہ کسی گذشتہ بھول چوک پر غم نہ کرو اللہ یقینا ہمارے ساتھ ہے (التوبۃ:۴۰) مَعَنَا (التوبة: ٤٠) نَاصِرُنَا السَّكِينَةُ مَعَنَا کے معنی ہیں ہمارا مددگار ہے۔سکینة فَعِيلَةٌ مِّنَ السُّكُونِ۔فَعِيلَةٌ کے وزن پر سکون سے مشتق ہے۔٤٦٦٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۶۶۳ : عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حسبان حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ بن ہلال باہلی ) نے ہمیں بتایا کہ ہمام ( بن یحی) حَدَّثَنَا أَنَس قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ ﷺ نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت نے ہمیں بتایا کہ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِي الا الله فِي الْغَارِ حضرت انس نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ قُلْتُ يَا ابو بکر نے نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے کہا: رَسُولَ اللهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ میں غار میں نبی صلی للی نام کے ساتھ تھا۔اتنے میں رَآنَا قَالَ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِتُهُمَا۔میں نے مشرکوں کے پاؤں دیکھے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی اپنا پاؤں اٹھائے تو ہمیں دیکھ لے۔آپ نے فرمایا: تمہارا ایسے دو شخصوں کی نسبت کیا خیال ہے جن کے ساتھ طرفاه ٣٦٥٣، ٣٩٢٢۔تیسرا اللہ ہو۔٤٦٦٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۶۶۴ عبد اللہ بن محمد (جعفی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ کیا۔(سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے