صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 362
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۶۲ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة رہبانوں کا ذکر بصراحت ہے۔اس لئے اس میں اُن کی ذخیرہ اندوزی کا ذکر ہے۔لیکن جہاں ان کی بات درست ہے وہاں حضرت ابوزر کا قول بھی درست ہے۔کیونکہ خالی مسلمان کہلانے سے تو سزا سے نجات نہیں ملتی جب تک عقیدہ و کردار درست نہ ہوں۔قرآن مجید میں ( الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحت) ایمان و اعمال صالح دونوں کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔اس لئے دونوں صحابی اپنے اپنے استدلال میں سچے ہیں۔171 باب ۷ يَوْمَ يُحْلى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتَكُوى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَ ظهُورُهُمْ هذَا مَا كَنَزُتُم لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ (التوبة: ٣٥) اللہ عزوجل کا فرمانا :) جس دن جہنم کی آگ ان پر خوب گرم کی جائے گی اور ان کی پیشانیاں، ان کے پہلو، ان کی پیٹھیں ان سے داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جس کو تم نے اپنی جانوں کے لئے جمع رکھ چھوڑا تھا۔سو اب چکھو جس کو تم جمع کرتے تھے۔٤٦٦١ : وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ ۴۶۶۱ اور احمد بن شبیب بن سعید نے کہا کہ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ میرے باپ نے ہمیں بتایا، انہوں نے یونس سے ، شِهَابٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ یونس نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے خالد خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ بن اسلم سے روایت کی کہا: ہم حضرت عبد اللہ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ فَلَمَّا بن عمر کے ساتھ نکلے۔انہوں نے کہا: یہ آیت أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طُهْرًا لِلْأَمْوَالِ۔( وَالَّذِينَ يَكْذِذُونَ النَّاهَب یعنی اور جو لوگ سونا اور چاندی ذخیرہ کرتے ہیں) زکواۃ کے حکم طرفه: ١٤٠٤- سے پہلے نازل کی گئی۔جب زکوۃ کا حکم نازل ہوا تو اللہ نے اس کو مالوں کے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا۔