صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 361 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 361

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۶۱ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ أَنَّ نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ عبد الرحمن اعرج نے انہیں بتایا، انہوں نے کہا کہ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا۔اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے يَقُولُ يَكُونُ كَنْرُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سنا۔آپ فرماتے تھے: تم میں سے ایک کا خزانہ قیامت کے دن گنجا سانپ بن جائے گا۔شُجَاعًا أَقْرَعَ۔اطرافه ١٤٠٣، ٤٥٦٥ ٦٩٥٧- ٤٦٦٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۶۶۰ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے حصین (بن وَهْبٍ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى أَبِي ذَرِ بِالرَّبَدَةِ عبد الرحمن سے چھین نے زید بن وہب سے فَقُلْتُ مَا أَنْزَلَكَ بِهَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالَ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں ربذہ میں حضرت كُنَّا بِالشَّامِ فَقَرَأْتُ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ ابوذر کے پاس سے گزرا۔میں نے پوچھا: آپ کو الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ کس بات نے اس زمین میں ٹھہرا رکھا ہے ؟ کہنے اللهِ فَبَشِّرُهُم بِعَذَابِ الیم (التوبة: ٣٤ لگے : ہم شام میں تھے میں نے یہ آیت پڑھی: اور قَالَ مُعَاوِيَةُ مَا هَذِهِ فِينَا مَا هَذِهِ إِلَّا وہ لوگ (بھی) جو سونے اور چاندی کو جمع رکھتے ، أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ قُلْتُ إِنَّهَا ہیں اور اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خبر دے۔معاویہ نے کہا: یہ لَفِينَا وَفِيهِمْ۔طرفه: ١٤٠٦۔آیت ہمارے متعلق نہیں۔یہ تو صرف اہل کتاب کے متعلق ہے۔کہتے تھے: میں نے کہا: یہ آیت یقیناً ہمارے متعلق بھی ہے اور اُن کے متعلق بھی۔تشريح۔وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَهَبَ۔۔۔۔ذخیرہ اندوزی کی سزا کا ذکر کتاب الزکوۃ باب ۴۰۳ میں گزر چکا ہے۔جس میں تمشیدا علاوہ دیگر سزا کے مذکورہ بالا روایت بھی منقول ہے۔اس باب کی دوسری روایت میں حضرت معاویہؓ کا استدلال اس امر سے ہے کہ محولہ بالا آیت میں احبار یہود اور مسیحی