صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 360 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 360

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۶۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة أَحَدُهُمْ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ ہمارے چیدہ چیدہ مال نچرالے جاتے ہیں۔حضرت الْبَارِدَ لَمَا وَجَدَ بَرْدَهُ۔حذیفہ نے کہا: یہی لوگ احکام الہی کی نافرمانی أطرافه: ١٤٠٣ ٤٥٦٥ ٦٩٥٧ لا کرنے والے ہیں۔ہاں ان میں سے سوائے چار شخصوں کے کوئی باقی نہیں رہا۔اُن میں سے ایک بہت بوڑھا شخص ہے جو اگر ٹھنڈا پانی پیئے تو اس کی ٹھنڈک محسوس نہ کرے۔: تشريح۔فَقَاتِلُوا ايَةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ : جمہور کی قراءت ایمان سے ہے، جو یمین کی مفرد ہے، یعنی عہد۔لَا أَیمَان لَهُم کفر کے سرغنوں کا کوئی عہد نہیں۔یعنی وہ اپنے عہدوں کو پورا نہیں کرتے۔شاذ قراءت ایمان بھی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰۹) مگر جمہور کی روایت ہی درست ہے۔کیونکہ کفار سے ایمان کی نفی بلا ضرورت ہے۔روایت زیر باب میں اعرابی ( بدوی) کے استفسار سے ظاہر ہے کہ معاہدہ کے ہوتے ہوئے کفار قتل و غارت سے باز نہیں آتے تھے جس سے معنونہ آیت کے مضمون کی تصدیق ہوتی ہے۔امام ابن حجر نے بدوی سائل اور چار باقی ماندہ منافقوں کے ناموں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ آئمۃ الکفر میں سے ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ تو بدر کے موقع پر مارے گئے تھے اور ابوسفیان اور سہیل بن عمرو نے آخر میں اسلام قبول کر لیا تھا ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۱۰) إِنَّكُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ : اصحاب، منادی یا بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ تم جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہو یا اے محمد کے ساتھیو ! أَحَدُهُمْ شَيْخٌ كَبِير۔یعنی ان میں سے ایک پیر فرتوت ہے مگر ڈاکہ زنی سے باز نہیں آتا۔یہ حال تھا اُن سرغنوں کا۔اس بوڑھے کے متعلق بتایا گیا ہے کہ کھانے پینے کے ذائقہ کی وہ جس ہی نہیں رکھتا تھا۔ٹھنڈک محسوس نہ ہونے کا یہی مفہوم ہے۔اس کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۱۰) باب ٦ : وَالَّذِينَ يَكْذِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَشِّرُهُم بِعَذَابِ اليم (التوبة: ٣٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور وہ لوگ جو کہ سونا اور چاندی اکٹھا کر کے محفوظ رکھتے ہیں اور اُن کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک سزا کی بشارت دے ٤٦٥٩: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ۴۶۵۹: حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب