صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 359
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۹ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة اسحاق بن منصور کی سند سے ہے اس میں قدرے مزید وضاحت ہے۔ورنہ اس کا وہی مضمون ہے جو سابق الذکر روایات کا ہے یہ مزید وضاحت روایت ۴۶۵۷ میں حمید بن عبد الرحمن کی ہے، جس کا بطور ادراج اضافہ کیا گیا ہے اور انہوں نے آیت وَ آذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِمَ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجَ الْأَكْبَرِ (التوبۃ:۳) سے استنباط کیا ہے۔علاوہ ازیں حضرت ابو بکر کے ارشاد سے بھی جو اُنہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو فرمایا کہ یوم النحر ( قربانی کے دن) مقام منی میں براءت کا اعلان کیا جائے۔اس اعلان میں مشرکوں کو بیت اللہ کا حج کرنے اور برہنہ طواف سے روکا گیا ہے اور اس کے علاوہ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ معاہد مشرکین کے ساتھ معاہدہ کی مدت معینہ تک پابندی کی جائے گی۔علماء نے اس تعلق میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ حضرت علیؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے تھے اور عربوں میں دستور تھا کہ معاہدہ کرنے والا خود یا اس کے خاندان کا قابل اعتماد فرد ہی ایفاء یا نقض معاہدہ کے بارہ میں اعلان کرنے کا مجاز سمجھا جاتا تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو بھی اس غرض سے حج کے موقع پر بھیجا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۰۷) بَاب ٥ : فَقَاتِلُوا اَبِمَّةَ الْكُفْرِ : إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمُ (التوبة : ١٢) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم کفر کے سرغنوں سے لڑو، اُن کا کوئی عہد و پیمان نہیں۔٤٦٥٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۶۵۸: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ يحي حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا ( بن سعيد ) نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل ( بن ابی خالد ) زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں بتایا۔فَقَالَ مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ بن یمان) کے الْآيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ وَلَا مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا بِاس تھے۔انہوں نے کہا: آیت (فَقَاتِلُوا ابِيَّةَ الْكُفْرِ ) میں مذکور لوگوں میں سے سوائے أَرْبَعَةٌ فَقَالَ أَعْرَابِيُّ إِنَّكُمْ أَصْحَابَ تین شخصوں کے کوئی باقی نہیں رہا اور نہ منافقوں مُحَمَّدٍ لا تُخْبِرُونَنَا فَلَا نَدْرِي، میں سے کوئی باقی رہا سوائے چار شخصوں کے۔فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَنْقُرُونَ۔ایک اعرابی نے کہا: تم تو محمد (صلی ) کے صحابہ بُيُوتَنَا وَيَسْرِقُونَ أَعْلَاقَنَا ؟ قَالَ أُولَئِكَ ہو میں بتاؤ ہم نہیں جانتے ان لوگوں کی کیا حالت الْفُسَّاقُ أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا أَرْبَعَةٌ ہے جو ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں اور ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع: ” اور حج اکبر کے دن سب لوگوں کے سامنے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ عام کیا جاتا ہے۔" فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق اس جگہ لفظ " يَنْقُرُونَ" ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲۰۹)