صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 358
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۸ ۲۵ - كتاب التفسير / براءة بَاب ٤ : إِلَّا الَّذِينَ عُهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ( التوبة : ٤) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) سوائے ان مشرکوں کے جن کے ساتھ تم نے عہد کیا ٤٦٥٧ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۴۶۵۷: اسحاق بن منصور ) نے مجھے بتایا کہ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ باپ نے ہمیں بتایا کہ اُنہوں نے صالح (بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ (کیان) سے، صار صالح نے ابن شہاب سے روایت أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کی کہ حمید بن عبد الرحمن نے اُن کو خبر دی کہ اریم بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ حضرت ابو ہریرہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر اللہ نے انہیں ایک جماعت کے ساتھ رضي عنه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ اس حج کے لئے بھیجا جس میں رسول اللہ صلی اللہ ہم نے علوم حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي اُن کو امیر مقر رکیا تھا، وہ جو حجۃ الوداع سے پہلے تھا النَّاسِ أَنْ لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر رہے تھے کہ اس سال وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ فَكَانَ کے بعد کوئی مشرک قطعا حج کو نہ آئے اور نہ کوئی حُمَيْدٌ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ يَوْمُ الْحَجِّ برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔ حمید حضرت الْأَكْبَرِ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ۔ ابو ہریرہ کی اس روایت کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) حج اکبر کا دن ہے۔ أطرافه : ٣٦٩ ۱٦٢٢، ۳۱۷۷ ، ٤٣٦٣، ٤٦٥٥، ٤٦٥٦ تشريح : إِلَّا الَّذِينَ عَهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۔۔۔۔ معنونہ آیت یہ ہے إِلَّا الَّذِينَ عَهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَ لَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إلى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (التوبة: ۴) مگر مشرکوں میں سے جن سے تم نے عہد کیا ہے پھر اُنہوں نے تم سے عہد شکنی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تم اُن کے عہد مقررہ مدت تک نبھاؤ۔ اللہ یقیناً متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا اعلان براءت کی اصل وجہ اختلاف عقیدہ نہ تھی۔ بلکہ ظالموں کے جرم کی سزا تھی۔ کیونکہ ایفائے عہد عہد کرنے والے مشرک اِس ) ۔ اس اعلان سے آزاد رکھے گئے ہیں اور مسلمانوں کو الفاظ و ان اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ کے ذریعے اپنے سلوک میں تقوی اللہ مد نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ روایت نمبر ۴۶۵۷