صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 358 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 358

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۸ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة بَاب ٤ : إِلَّا الَّذِينَ عَهَدُ ثُمَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (التوبة: ٤ ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) سوائے اُن مشرکوں کے جن کے ساتھ تم نے عہد کیا ٤٦٥٧: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۴۶۵۷ اسحاق (بن منصور) نے مجھے بتایا کہ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ باپ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے صالح (بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کیان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کی کہ حمید بن عبد الرحمن نے اُن کو خبر دی کہ الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ حضرت ابوہریر گا نے ان سے بیان کیا کہ حضرت بَعَثَهُ فِي ابو بکر نے انہیں ایک جماعت کے ساتھ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ اس حج کے لئے بھیجا جس میں رسول اللہ صل اللہ ہم نے حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي اُن کو امیر مقرر کیا تھا، وہ جو حجۃ الوداع سے پہلے تھا النَّاسِ أَنْ لَا يَحْجَنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر رہے تھے کہ اس سال وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ فَكَانَ کے بعد کوئی مشرک قطعا حج کو نہ آئے اور نہ کوئی حُمَيْدٌ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ يَوْمُ الْحَجّ برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔حمید حضرت الْأَكْبَرِ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ابوہریرہ کی اس روایت کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) حج اکبر کا دن ہے۔أطرافه : ۳۶۹، ۱۶۲۲ ، ۳۱۷۷، ٤۳۶۳، ٤٦٥٥ ٤٦٥٦۔تشريح: إِلَّا الَّذِيْنَ عُهَدُ ثُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔۔۔۔معونہ آیت یہ ہے إِلَّا الَّذِينَ عَهَدُ قُم مِنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَ لَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَاتِقُوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إلى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ( التوبۃ: ۴) مگر مشرکوں میں سے جن سے تم نے عہد کیا ہے پھر انہوں نے تم سے عہد شکنی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تم ان کے عہد مقررہ مدت تک نبھاؤ۔اللہ یقیناً متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا اعلان براءت کی اصل وجہ اختلاف عقیدہ نہ تھی۔بلکہ ظالموں کے جرم کی سزا تھی۔کیونکہ ایفائے عہد کرنے والے مشرک اس اعلان سے آزاد رکھے گئے ہیں اور مسلمانوں کو الفاظ ان اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ کے ذریعے اپنے سلوک میں تقوی اللہ مد نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔روایت نمبر ۴۶۵۷