صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 357 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 357

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۷ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: حمید بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَنِي عبد الرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرۃانے أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ کہا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حج میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا۔اُنہوں نے فِي الْمُؤَذِّنِينَ بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ ان اعلان کرنے والوں کو قربانی کے دن روانہ کیا يُؤَدِّنُونَ بِمِنِّى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ کہ وہ مٹی میں اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ قَالَ حُمَيْدٌ ثُمَّ أَرْدَفَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کا طواف کرے۔حمید نے کہا: (پھر حضرت ابو بکر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ کے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِنَ بِبَرَاءَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ بن ابي طالب کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ براءت کا اعلان کریں۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے: حضرت علی نے بھی ہمارے ساتھ منی والوں میں قربانی کے دن براءت کا اعلان کیا اور فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنِّى يَوْمَ النَّحْرِ بِبَرَاءَةَ، وَأَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ۔یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔أطرافه : ۳۶۹، ١٦۲۲ ،۳۱۷۷، ٤٣٦۳، ٤٦٥٥ ٤٦٥٧۔تشريح: وَآذَانٌ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِة۔۔۔معونہ آیت یہ ہے وَ أَذَانُ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِةِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجَ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللهَ بَرَى مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَ رَسُولُهُ - فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرُ لكُمْ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابِ اليمن (التوبة: ۳) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں میں حج اکبر کے دن یہ اعلان کیا جاتا) ہے کہ اللہ اور (اسی طرح) اس کا رسول بھی مشرکوں کے سب الزاموں) سے بری ہو چکے ہیں اور مکہ فتح ہو چکا ہے) سواگر ( اس نشان کو دیکھ کر ) تم تو بہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا اور اگر تم پیٹھ پھیر لو تو جان کہ تم ہرگز اللہ کو ہرا نہیں سکتے اور تو کفار کو خبر دے دے کہ ان کے لیے (ایک) درد ناک عذاب (مقدر) ہے۔سابقہ باب کی روایت سعید بن عفیر کی ہے اور اس باب کی روایت عبد اللہ بن یوسف کی سند کا اختلاف صحت روایت کو تقویت دیتا ہے۔دونوں روایتوں کا مضمون ایک ہی ہے۔مذکورہ بالا اعلان میں الفاظ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ سے ظالموں کو تو بہ کا موقع بھی دیا گیا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ اس سے انتقام نہیں بلکہ اصلاح مقصود ہے۔