صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 15 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 15

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة بَيَاضَ وَقَالَ غَيْرُهُ: يَسُومُونَكُمْ عبرت ہے ۔ لا شِيَةَ فِيهَا) کے معنی اس میں کوئی (البقرة : ٥٠) يُولُونَكُمْ الْوَلَايَةُ سفیدی نہیں۔ اور ابوالعالیہ کے علاوہ دوسرے مَفْتُوحَةً مَصْدَرُ الْوَلَاءِ وَهِيَ الرُّبُوبِيَّةُ لوگوں نے يَسُومُونَكُمْ کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ إِذَا كُسِرَتِ الْوَاوُ فَهِيَ الْإِمَارَةُ۔ تمہارے رب بنتے ہیں۔ الْوَلايَةِ واؤ کی زبر کے ساتھ ولاء کا مصدر ہے جس کے معنی ربوبیت کے وَقَالَ بَعْضُهُمُ الْحُبُوبُ الَّتِي تُؤْكَلُ ہیں اور اگر واؤ کے نیچے زیر ہو تو اس کے معنی كُلُّهَا فُومٌ۔ {فَاذْرَ تُمْ (البقرة: ٧٣) حکومت ہیں۔ (فوم ) بعض نے کہا ہے : وہ اناج جو وم ہے۔ اخْتَلَفْتُمْ } وَقَالَ قَتَادَةُ : فَبَاءُو کھایا جاتا ہے، سب کا سب قوم کہلاتا (البقرة: ٩١) فَانْقَلَبُوا ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ: فَاذْرَ تُم (کے معانی) تم نے (اس کے متعلق) يَسْتَفْتِحُونَ (البقرة: (۹۰) يَسْتَنْصِرُونَ۔ جھگڑا کیا۔ اور قتادہ نے کہا: فَبَاءُ و (بِغَضَبٍ عَلَى شَرَوْا (البقرة : ١٠٣) بَاعُوا ۔ رَاعِنَا غَضَبٍ) کے معنی ہیں وہ غضب پر غضب (البقرة: ١٠٥) مِنَ الرُّعُونَةِ، إِذَا أَرَادُوا لے کر لوٹ گئے۔ اور قتادہ کے سوا اوروں نے کہا: أَنْ يُحَمِّقُوا إِنْسَانًا قَالُوا رَاعِنَا ۔ لَا يَسْتَفْتِحُونَ کے معنی ہیں يَسْتَنْصِرُونَ یعنی مدد يَجْزِي : لَا يُغْنِي خُطُوتِ (البقرة: ١٩٦٩) طلب کرتے ہیں۔ شتروا کے معنی انہوں نے بیچا۔ رَاعِنَا - رَعُونَةٌ سے ہے، یعنی حماقت۔ (عرب) : مِنَ الْخَطْرِ وَالْمَعْنَى آثَارَهُ۔ جب کسی انسان کو احمق بنانا چاہتے تو کہتے رَاعِنا۔ ابتلى (البقرة: ١٢٥) اخْتَبَرَ۔ لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ) کے معنی کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا۔ (لَا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطن میں ) خُطُوتِ (جمع ہے خُطوَةٌ کی، جو ) خطو سے ہے اس کے معنی ہیں قدموں کے نشان۔ (وَإِذِ ابْتَلی میں ) ابتلی کے معنی ہیں آزمایا۔ ا یہ الفاظ صحیح البخاری مطبوعہ آرام باغ کراچی کے مطابق ہیں۔ ( صحیح البخاری جزء ۲ صفحہ ۶۴۳) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لا تَجْزِى (البقرة : ١٢٤) لا تُغْنِي کے الفاظ ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ حاشیه صفحه ۲۰۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔