صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 15
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة ہیں اور اگر واؤ کے نیچے زیر ہو تو اس کے معنی بَيَاضَ۔وَقَالَ غَيْرُهُ : يَسُومُونَكُمْ عبرت ہے۔لَا شِيَةً (فيفا) کے معنی اس میں کوئی (البقرة: (٥٠) يُولُونَكُمْ الْوَلَايَةُ سفیدی نہیں۔اور ابوالعالیہ کے علاوہ دوسرے مَفْتُوحَةٌ مَصْدَرُ الْوَلَاءِ وَهِيَ الرُّبُوبِيَّةُ لوگوں نے يَسُومُونَكُمْ کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ إِذَا كُسِرَتِ الْوَاوُ فَهِيَ الْإِمَارَةُ۔تمہارے رب بنتے ہیں۔الولاية واؤ کی زبر کے ساتھ ولاء کا مصدر ہے جس کے معنی ربوبیت کے وَقَالَ بَعْضُهُمُ الْحُبُوبُ الَّتِي تُؤْكَلُ كُلُّهَا فُومٌ۔{فَاذْرَ تُمْ (البقرة : ۷۳) حکومت ہیں۔(فوم ) بعض نے کہا ہے: وہ اناج جو اخْتَلَفْتُمْ } وَقَالَ قَتَادَةُ : فَبَاءُو کھایا جاتا ہے، سب کا سب قوم کہلاتا ہے۔(البقرة: ٩١) فَانْقَلَبُوا وَقَالَ غَيْرُهُ: فَاذْرَةٌ تُمْ (کے معانی) تم نے (اس کے متعلق) يَسْتَفْتِحُونَ (البقرة: ٩٠) يَسْتَنْصِرُونَ جھگڑا کیا۔اور قتادہ نے کہا: فَبَاءُو (بِغَضَبٍ على شروا (البقرة: ١٠٣) بَاعُوا رَاعِنَا غَضَبٍ) کے معنی ہیں وہ غضب پر غضب (البقرة: ١٠٥) مِنَ الرُّعُونَةِ، إِذَا أَرَادُوا لے کر لوٹ گئے۔اور قتادہ کے سوا اوروں نے کہا: أَنْ يُحَمِّقُوا إِنْسَانًا قَالُوا رَاعِنَا لَا يَسْتَفْتِحُوْنَ کے معنی ہیں يَسْتَنْصِرُونَ یعنی مدد يَجْزِى لَا يُغْنِي خُطوتِ (البقرة: ١٦٩) طلب کرتے ہیں۔شتروا کے معنی انہوں نے بیچا۔: - رَاعِنَا - رَعُوْنَةٌ سے ہے، یعنی حماقت۔(عرب) مِنَ الْخَطْوِ وَالْمَعْنَى آثَارَهُ۔جب کسی انسان کو احمق بنانا چاہتے تو کہتے راعِنًا۔لا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ) کے معنی کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا۔(لَا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطن میں ) خُطوتِ (جمع ہے خُطوَةٌ کی، جو ) خطو سے ہے اس کے معنی ہیں قدموں کے نشان۔(وَإِذِ ابتلی میں) ابتلی کے معنی ہیں آزمایا۔ابتلى (البقرة : ١٢٥) اخْتَبَرَ۔یہ الفاظ صحیح البخاری مطبوعہ آرام باغ کراچی کے مطابق ہیں۔( صحیح البخاری جزء ۲ صفحہ ۶۴۳) ۲ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لا تَجْزِى (البقرة:١٢٤) لا تغنی کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیه صفحه ۲۰۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔