صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 356
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۶ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة تشريح : فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ۔۔۔ : سنخوا کے معنی ہیں چلو پھر و، چکر لگاؤ۔ یہ مفہوم ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ اُن کے الفاظ یہ ہیں: سیرُوا وَأَقْبِلُوا وَأَدْبِرُوا : اِدھر اُدھر گھومو ، جہاں چاہو آؤ جاؤ۔ تاحق کی مخالفت میں اپنی کوششوں کا انجام اچھی طرح دیکھ سکو۔ فتح ۸ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰۳) روایت زیر باب محتاج شرح نہیں طواف برہنہ سے متعلق دیکھئے کتاب الج زیر باب ۶۷۔ اس تعلق میں بے حیائی حد سے متجاوز تھی۔ تاریخ میں عامر بن صعصعہ کی بیٹی ضباعہ سے متعلق مذکور ہے کہ وہ بیت اللہ کے برہنہ طواف کے دوران یہ شعر پڑھتی تھی: اليومَ يَبْدُوا بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ ۔۔۔ وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ آج میرا بدن سارا برہنہ دکھائی دے یا جو کچھ حصہ بھی برہنہ دکھائی دے، میں اسے کسی کے لئے جائز نہیں قرار دوں گی۔ یعنی حج کا ادب ملحوظ رکھوں گی۔ یہ حال؟ یہ یہ حال تھا مشہور معزز خاندان بنی سلمہ بن قشیر کا۔ باقی عورتیں بھی بوقت طواف کپڑے اُتار دیتی تھیں۔ سوائے قمیض کے جو سامنے سے کھلی ہوتی یے باب ۳ وَ آذَانٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجَّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِى مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ( التوبة : ٣) اللہ تعالیٰ کا قول : ) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں میں حج اکبر کے دن یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اور (اسی طرح) اس کا رسول بھی مشرکوں (کے سب الزاموں ) سے بری ہو چکے ہیں (اور مکہ فتح ہو چکا ہے) سو اگر (اس نشان کو دیکھ کر ) تم توبہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا اور اگر تم پیٹھ پھیر لو تو جان کہ تم ہرگز اللہ کو ہر انہیں سکتے اور تو کفار کو خبر دے دے کہ ان کے لیے (ایک) درد ناک عذاب ( مقدر) ہے آذَنَهُمْ: أَعْلَمَهُمْ۔ آنکھو کے معنی ہیں اُس نے اُنہیں آگاہ کیا۔ ٤٦٥٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۶۵۶: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ قَالَ که لیث بن سعد ) نے ہمیں بتایا، کہا : عقیل نے مجھ ا اديان العرب في الجاهلية، لمحمد نعمان الجارم، الحج، الطواف بالبيت صفحه ۵۵) أنساب الأشراف للبلاذري، ذكر ضباعة بنت عامر بنت قرط بن سلمة جزء ا صفحه ۴۶۰ )