صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 354
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۴ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَنَحْوُهَا كَثِيرٌ : یعنی ہم معنی الفاظ سے تشریح کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔ مثلاً الفاظ تزکیہ اور زکوۃ، اطاعت اور اخلاص کے مفہوم میں بھی آئے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا تفسیر بسند علی بن ابی طلحہ نقل کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۰۲) ان کے نزدیک لا يُؤْتُونَ الزَّکوة سے مراد یہ ہے کہ وہ کلمہ شہادت کا اقرار نہیں کرتے۔ جیسے فرمایا: وَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَفِرُونَ ) ( حم السجدة: (۸،۷) یعنی مشرکوں کے لیے عذاب ( مقدر) ہے۔ وہ مشرک جو نہ زکوٰۃ دیتے ہیں اور نہ آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ لا إلہ کا اقرار نہیں کرتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔ يُضَاحِقُونَ بمعنى يُشَبِّهُونَ ہے یعنی وہ مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے الْمُضَاھات کے معنی تشبیہہ کئے ہیں۔ فرماتا ہے: ذلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِلُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (التوبة : ٣٠) یہ بات (عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور مسیح بھی اللہ کا بیٹا ہے ) صرف ان کے منہ کی لاف ہے۔ وہ صرف اپنے سے پہلے کفار کی باتوں کے نقال ہیں۔ اللہ ان کو ہلاک کرے وہ حقیقت سے کیسے اُلٹے پھرائے جارہے ہیں۔ الله سة روایت زیر باب میں حضرت براء بن عازب کے قول سے مراد یہ ہے کہ سورة براءة آخری سورۃ اس لحاظ سے ہے کہ اس کا اکثر حصہ غزوہ تبوک کے وقت نازل ہوا تھا جو غزوات نبویہ میں سے آخری غزوہ ہے۔ ورنہ اس میں بعض ایسی آیات بھی موجود ہیں جو معنوی تعلق کی وجہ سے اس میں شامل کی گئی ہیں اور یہ آیات آنحضرت صلی علیم کی وفات سے کچھ دیر قبل نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے از روئے تحقیق امام ابن حجر وغیرہ ، سورۃ براءۃ کا ابتدائی حصہ تو فتح مکہ کے بعد اس وقت نازل ہو ا تھا جب حضرت ابو بکر ۹ھ میں بغرض اعلان عام حج کے موقع پر بھیجے گئے تھے اور آیت اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة: (۴) - حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی جو • اھ میں ہوا تھا اور یہ آیت سورۃ المائدۃ میں شامل کی گئی ہے۔ اور آخری آیت جس کے نزول کی نسبت مستند شہادتیں ہیں یہ ہے : وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ) (البقرۃ : ۲۸۲) اور سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۷۷ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمُ في الكللة کے سے متعلق حضرت براء بن عازب کی ہی روایت ہے کہ وہ آخری آیت ہے جو نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس کی روایت کتاب التفسیر سورۂ بقرہ (نمبر ۴۵۴۴) میں میں گزر چکی ہے کہ الدبوا کی ہے کہ الرّبوا کی آیت (البقرۃ: ۲۷۷) بلحاظ شان نزول کے آخری ہے۔ امام ابن حجر نے روایات کا یہ اختلاف یوں حل کیا ہے کہ راوی نے اپنے علم کے مطابق روایت کی ہے اور اخرویت نزول آیت ایک نسبتی امر ہے اور آخری آیت بلحاظ نزول راوی کے علم ہی سے مخصوص ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۴۰۲) پر میں نے اپنی ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں ۔ دو نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع : ” اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو جو اُس نے کمایا پورا پورا دیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔“ دو ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع : وہ تجھ سے فتوی مانگتے ہیں کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوی دیتا ہے۔