صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 354
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۵۴ ۲۵ - كتاب التفسير / براءة تظهرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَنَحْوُهَا كَثِير : یعنی ہم معنی الفاظ سے تشریح کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔مثلاً الفاظ تزکیہ اور زکوۃ، اطاعت اور اخلاص کے مفہوم میں بھی آئے ہیں۔ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا تفسیر بسند علی بن ابی طلحہ نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۲) ان کے نزدیک لا يُؤْتُونَ الزَّکوۃ سے مراد یہ ہے کہ وہ کلمہ شہادت کا اقرار نہیں کرتے۔جیسے فرمایا: ويل للمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَفَرُونَ ( حم السجدة: ۸،۷) یعنی مشرکوں کے لیے عذاب (مقدر) ہے۔وہ مشرک جو نہ زکوٰۃ دیتے ہیں اور نہ آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔وہ لا إلہ کا اقرار نہیں کرتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔يُضاهون بمعنی یس بھوک ہے یعنی وہ مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ابو عبیدہ نے المُضامھات کے معنی تشبیہہ کئے ہیں۔فرماتا ہے: ذلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ : يُضَاهِوْنَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (التوبة : (٣٠) يه بات ( عزیر اللہ کا بیا ہے اور مسیح بھی اللہ کا بیٹا ہے ) صرف ان کے منہ کی لاف ہے۔وہ صرف اپنے سے پہلے کفار کی باتوں کے نقال ہیں۔اللہ اُن کو ہلاک کرے وہ حقیقت سے کیسے اُلٹے پھر ائے جارہے ہیں۔روایت زیر باب میں حضرت براء بن عازب کے قول سے مراد یہ ہے کہ سورۃ براءۃ آخری سورۃ اس لحاظ سے ہے کہ اس کا اکثر حصہ غزوہ تبوک کے وقت نازل ہوا تھا جو غزوات نبویہ میں سے آخری غزوہ ہے۔ورنہ اس میں بعض ایسی آیات بھی موجود ہیں جو معنوی تعلق کی وجہ سے اس میں شامل کی گئی ہیں اور یہ آیات آنحضرت صلی اللہ ہم کی وفات سے کچھ دیر قبل نازل ہوئی تھیں۔اس لئے از روئے تحقیق امام ابن حجر وغیرہ، سورۃ براءة کا ابتدائی حصہ تو فتح مکہ کے بعد اس وقت نازل ہوا تھا جب حضرت ابو بکر وھ میں بغرض اعلان عام حج کے موقع پر بھیجے گئے تھے اور آیت اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة: (۴) - حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی جو اھ میں ہوا تھا اور یہ آیت سورۃ المائدۃ میں شامل کی گئی ہے۔اور آخری آیت جس کے نزول کی نسبت مستند شہادتیں ہیں یہ ہے : وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوقُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ) (البقرۃ: ۲۸۲) اور سورۃ النساء کی آیت نمبر۱۷۷ يَسْتَفْتُونَكَ - قُلِ اللهُ يُفْتِيَكُمُ فِي الكَللَةِ " سے متعلق حضرت براء بن عازب کی ہی روایت ہے کہ وہ آخری آیت ہے جو نازل ہوئی۔حضرت ابن عباس کی روایت کتاب التفسیر سورۃ بقرہ (نمبر ۴۵۴۴) میں گزر چکی ہے کہ الرّبوا کی آیت ( البقرۃ: ۲۷۷) بلحاظ شان نزول کے آخری ہے۔امام ابن حجر نے روایات کا یہ اختلاف یوں حل کیا ہے کہ راوی نے اپنے علم کے مطابق روایت کی ہے اور اخرویت نزول آیت ایک نسبتی امر ہے اور آخری آیت بلحاظ نزول راوی کے علم ہی سے مخصوص ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰۲) 21 ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع : ” اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو جو اُس نے کمایا پورا پورا دیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : "وہ تجھ سے فتوی ما نگتے ہیں کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوی دیتا ہے۔