صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 353
صحيح البخاری جلد ۱۰ إلَّا اللَّهُ يُضَاهُونَ يُشَبِّهُونَ۔۳۵۳ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة کے معنی ہیں فرمانبرداری اور اخلاص لا يُؤْتُونَ الزکوة کے معنی ہیں کہ وہ اقرار نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔يُضَاهُونَ کے معنی ہیں وہ مشابہت اختیار کرتے ہیں ٤٦٥٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۴۶۵۴: ابو الولید ( ہشام بن عبد الملک) نے ہم شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللهُ عَنْهُ يَقُولُ آخِرُ آيَةٍ ابو اسحاق سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے الْبَرَاءَ رَضِيَ نَزَلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ الله يُفتِيكُم في حضرت براء سے سنا، کہتے تھے۔آخری آیت الكَللَةِ (النساء: ۱۷۷) وَآخِرُ سُورَةٍ جو نازل ہوئی وہ یہ ہے: وہ تجھ سے (ایک قسم کے کلالہ کے متعلق) فتویٰ پوچھتے ہیں تو کہہ دے اللہ نَزَلَتْ بَرَاءَةٌ۔أطرافه: ٤٣٦٤، ٤٦٠٥، ٦٧٤٤ - تمہیں (ایسے) کلالہ کے متعلق حکم سناتا ہے اور آخری سورۃ جو نازل ہوئی وہ براءۃ ہے۔شريح: بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِةٍ۔۔۔بَرَاءَ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِةٍ إِلَى الَّذِينَ عَهَدْتُمْ مِنَ : المُشْرِكِينَ (التوبة: 1) معلوم ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے براءت کا اعلان کیا جاتا ہے۔اُن مشرکوں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا تھا ( اور اُنہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی)۔ابو عبیدہ نے اذنتُهُمْ کے معنی أَعْلَمْتُهُمْ کئے ہیں۔آذَانٌ مِنَ اللہ میں اذان کے معنی ہیں اعلا مہ یعنی علم دینا، اعلان کرنا۔حضرت ابن عباس نے فرمایا : لو ادب سے مراد یہ ہے کہ وہ سنی سنائی بات سچی سمجھ لیتا ہے۔فرماتا ہے: وَ يَقُولُونَ هُوَ اذن۔وہ کہتے ہیں کہ وہ ( محمد) کان ہے۔یعنی کان کا کچا ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَ مِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيِّ وَيَقُولُونَ هُوَ أذُنٌ قُلْ أَذَنْ خَيْرٍ تَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمُ ) ( التوبة : ۶۱) اور اُن میں سے بعض ایسے (منافق) بھی ہیں جو نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو (کان ہی) کان ہے۔تو کہہ دے کہ وہ تمہارے لئے بھلائی سننے کے کان رکھتا ہے۔وہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور جو تم میں سے مومن ہوں اُن کے وعدوں) پر (بھی) یقین رکھتا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت کا موجب ہے اور وہ لوگ جو اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔مخالفین کا الزام نقل کرنے کے بعد یہ جو فرمایا: قُلْ أَذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ اس کی تشریح جو حضرت ابن عباس نے لفظ یصد فی سے کی ہے ، اس سے مراد تصدیق باللہ ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰۱)