صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 352 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 352

۳۵۲ صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة مُرْجَونَ لِاَمْرِ اللهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ) (التوبة: ١٠٦) اور کچھ اور لوگ ہیں جو اللہ کے حکم کے انتظار میں مہلت دیئے گئے ہیں (اسے اختیار ہے کہ) خواہ اُن کو سزا دے یا اُن کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ بہت ہی علم رکھنے والا پختہ کار ہے۔(۱۴) شَفَا سفیر کی جمع ہے جس کے معنی ہیں کنارہ۔جرف یعنی گرنے والا جسے سیلاب بہا لے جائے۔هار بمعنى هَائِرٍ ہے۔فرماتا ہے : أَفَمَنْ اَسسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرُ امْ مَنْ آمَسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ - وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ) (التوبة: ١٠٩) کیا وہ شخص جو اپنے ( اعمال کی ) عمارت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور رضامندی پر رکھتا ہے زیادہ اچھا ہے یا وہ جو اپنی بنیاد ایک پھسلنے والے کنارہ پر رکھتا ہے جو بو دا اور گرنے والا ہے۔سو یہ کنارہ اعمال سمیت جہنم کی آگ میں گر گیا اور اللہ ظالم قوم کو راہ راست نہیں دکھاتا۔(۱۵) لاوان : اس لفظ سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ ابْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا ايَاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ تَبَرَّاً مِنْهُ - إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَاهُ حَلِيمٌ ( التوبة : (۱۱۴) اور ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لئے صرف اس وجہ سے تھا کہ اس نے اس سے ایک وعدہ کیا تھا۔مگر جب اس پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس وعدے سے پوری طرح دستبردار ہو گیا۔ابراہیم بہت ہی نرم دل اور عقلمند تھا۔یہ مذکورہ بالا تشریح سورہ توبہ کا دیباجہ ہے اور اب ذیل میں باب وار تشریح ملاحظہ ہو۔باب ۱ براءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عُهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ) ( التوبة : ١) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان آیات میں) ان مشرکوں (کے الزام) سے براءت کا اعلان کیا جاتا ہے جن سے تم نے شرط باندھی تھی۔(کہ تمہاری فتح ہو گی اور ان کی شکست) أَذَان کے معنی ہیں اعلان۔آذَانٌ (التوبة: 3) إِعْلَامٌ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أُذُن (التوبة: ٦١) اور حضرت ابن عباس نے فرمایا: اذن اس شخص يُصَدِّقُ تُطَهَرُهُمْ وَتُزَکیهِمُ (التوبة: ١٠٣) کو کہتے ہیں جو (ہر بات کو سچا سمجھ لیتا ہے۔بِهَا وَنَحْوُهَا كَثِيرٌ۔وَالزَّكَاةُ تُطَهَّرُهُمْ وَتُزكيهم یعنی تا کہ تو اس کے ذریعے الطَّاعَةُ وَالْإِخْلَاص لا يُؤْتُونَ الزَّكوة انہیں پاک کرے اور ان کا تزکیہ کرے۔اور اس ، حم السجدة: ۸) لَا يَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ قسم کی عبارتیں ( قرآن میں) بہت ہیں۔الزکوۃ (