صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 351 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 351

صحيح البخاری جلد۔۳۵۱ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة بستیاں ہیں۔سورۃ النجم آیت نمبر ۵۴ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالْمُؤْتَفكَةَ آهوی (النجم : ۵۴) یہاں اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔یعنی النائی ہوئی بستیاں جنہیں گڑھے میں ڈال دیا۔۔(11) عذب کے معنی ہیں خُلد یعنی ہمیشہ رہنا۔کہتے ہیں عدَدْتُ بِأَرضِ۔میں نے زمین میں قیام کیا۔زمین سے مراد علاقہ ہے۔اس لفظ عدن سے معدن مشتق ہے۔کہتے ہیں: ھو فِي مَعْدِنِ صِدْقٍ : في مَنْبَتِ صدتی۔یعنی عمدہ گھرانے میں تربیت یافتہ فرماتا ہے: وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ جَنْتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الانهرُ خَلِدِينَ فِيهَا وَمَسْكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنْتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانَ مِنَ اللهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ) (التوبۃ : ۷۲ ) اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسی جنات کے وعدے کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پاک رہائش گاہوں کا بھی وعدہ کیا ہے اور مزید براں اللہ تعالیٰ کی رضامندی سب سے بڑا انعام ہے (جو انہیں ملے گا) اور اس کا ملنا بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔(۱۲) الخوالف جمع خَالِف کی ہے۔اس کے معنی ہیں جانشین۔خَالِفہ اس کی مؤنث ہے۔دونوں کی جمع خَوَالِف ہے۔یعنی پیچھے بیٹھے رہنے والے مرد یا عورتیں دونوں مراد ہیں۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : وَمَا انْفَقْتُم مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُه (سبا: ۴۰) اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، وہ اس کا نتیجہ ضرور نکالے گا۔اور سورۃ الشعراء میں فی الغبِرِينَ (الشعراء: ۱۷۲) انہی معنوں میں آیا ہوا ہے۔یعنی ہم نے لوط اور اس کے سب اہل کو نجات دی۔سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والی تھی۔فقر و في الغبرین سے اس طرف اشارہ ہے کہ خَوَالِف سے بھی مراد نہ شامل ہونے والے لوگ ہیں۔لفظ خوالف سورہ توبہ کی آیت ۸۷ اور ۹۳ میں آیا ہے۔جہاں شریک جہاد نہ ہونے والوں کی نسبت دو دفعہ فرمایا: رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَائِفِ وَطُبعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ) (التوبۃ: ۸۷) وہ اس بات پر خوش ہیں کہ پیچھے بیٹھے رہنے والوں میں شامل ہو جائیں اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے۔پس وہ (اپنے بد اعمال کی وجہ سے ) نہیں سمجھتے اور فرماتا ہے: اِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ اغْنِيَاءُ رَضُوا بِاَنْ تَكُونُوا مَعَ الْخَوَانِفِ وَ طَبَعَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ) (التوبة: ٩٣) الزام صرف أن لوگوں پر ہے جو اس حالت میں تجھ سے اجازت مانگتے ہیں کہ وہ مال دار ہیں۔وہ پیچھے بیٹھ رہنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھ رہنے پر راضی ہو گئے اور اللہ نے اُن کے دلوں پر مہر کر دی ہے مگر وہ نہیں جانتے۔زیر تشریح لفظ الخوالف جمع کے صیغے میں ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے فارس کی جمع فَوَارِس (آسپ سوار ) مالک کی جمع هَوَالِك ( ہلاک شدگان) ، شاهی کی شَوَاهِقُ ( بلند چوٹیاں)، ناکش کی جمع نواکش (سرنگوں) دا جن کی دَوَاجِنُ (گھریلو جانور ) - مفرد کے آخر میں ۃ زائد کرنے سے یہ صیغہ مبالغہ ہو گا جیسے خَالِفَةٌ- کہتے ہیں: رَجُلٌ خَالِفَةٌ لَا خَيْرَ فِيهِ - ایسا شخص جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔جیسے خَيْرٌ سے خَيْرَاتٌ ہے بمعنی فَوَاضِلُ یعنی ممتاز اور چنیدہ لوگ۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۰۰) (۱۳) مُرْجَوْنَ کے معنی ہیں مُؤَخَّرُونَ یعنی وہ لوگ جن کا فیصلہ ملتوی کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: وَأَخَرُونَ