صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 350
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة نُوثمنی کیے ہیں۔یعنی کسی مشقت آمیز امر میں مجھے ڈال کر میری کمزوری ظاہر نہ کریں یا مجھے گناہ گار نہ ٹھہر آئیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۹۹) اس حوالہ سے یہ آیت مراد ہے: وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَا وَ اِنْ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالكَفِرِينَ ) ( التوبة : ۴۹) اور اُن میں سے بعض (منافق) ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں (پیچھے رہنے کی اجازت دیجئے اور ہم کو (جنگ پر ) جانے کی آزمائش میں نہ ڈالیئے۔سن رکھو یہ لوگ فتنے میں پہلے ہی سے پڑچکے ہیں اور جہنم کافروں کو یقینا تباہ کرنے والی ہے۔اس کے بعد آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جن سے بیزاری کا اعلان کیا گیا ہے اُن کا حال یہ ہے کہ وہ نہ صرف معاشرہ اسلامیہ کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہوتے بلکہ اس کے دکھ پر خوش ہوتے ہیں اور اُن کی حالت یہ ہے کہ اس کا سکھ ہی انہیں ناگوار ہوتا ہے۔۷ گرھا وَكُرُها معنوں کے لحاظ سے ایک ہی ہیں یعنی ناپسندیدگی۔اس سے سورہ توبہ آیت ۳۲، ۳۳ کی طرف اشارہ ہے جس میں آنحضرت صلی یی کم کی بعثت کی غرض و غایت کا ذکر ہے۔یعنی یہ لوگ نہ صرف آپ کے نصب العین ہی سے متفق نہیں بلکہ اسے ناپسند بھی کرتے ہیں۔فرماتا ہے: يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا ان يتم نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ ) هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَ لَو كرة المشرکون وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ ( کی پھونکوں) سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے کے سوا دوسری ہر بات سے انکار کرتا ہے۔خواہ کفار کو کتنا ہی بُرا لگے۔وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ (باقی) تمام دینوں پر اُسے غالب کر دے، گو مشرکوں کو یہ بات بہت ہی بری لگے۔(۸) مُدَّخَلًا : يُدْخَلُونَ فِيهِ : يہ معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔یعنی وہ جگہ جس میں وہ داخل کیے جاتے ہیں (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۹۹) پوری آیت یہ ہے : لَو يَجِدُونَ مَلْجَا أَوْ مَغْرَتٍ أَوْ مُتَّخَلًا لَوَلَّوْا إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ (التوبة: ۵۷) اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ یا چپ رہنے کے لیے غار یا بیٹھے رہنے کے لیے کوئی ٹھکانہ پائیں تو وہ پیٹھ پھیر کر دوڑتے ہوئے اُدھر چلے جائیں گے۔يَجْمَحُونَ کے معنی يُسْرِ موت ہیں یعنی جلدی سے چلتے ہیں۔جھیے کا معنی ہے سر اُٹھائے بے تحاشہ دوڑنا۔( الْمُؤْتَفِلَتِ انْتَفَكَّتْ سے اسم مفعول جمع مونث ہے یعنی الٹائی ہوئی بستیاں۔فرماتا ہے: اَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَ ثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَهِيمَ وَ اَصْحَب مَدينَ وَالْمُؤْتَفِلْتِ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنَتِ فَمَا كَانَ اللهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ) (التوبۃ: ۷۰) کیا اُن کے پاس اُن لوگوں کی خبریں نہیں آئیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔یعنی نوح اور عاد اور ثمود کی قوم کی اور ابراہیم کی قوم اور مدین والوں کی اور الٹائی گئی بستیوں کے لوگوں کی۔اُن کے پاس اُن کے رسول کھلے نشان لے کر آئے (مگر انہوں نے انکار کیا اور سزا پائی اللہ تعالیٰ تو ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرتابلکہ وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔(۱۰) آٹھوی کے معنی ہیں گڑھے میں گرا دی۔ھوت کے معنی ہیں گڑھا۔المُؤْتَفِکتِ سے مراد قوم لوط کی