صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 349 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 349

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۴۹ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة (۲) الا کے معنی ہیں قرابت اور ذمہ کے معنی ہیں اقرار و پیمان۔ اس سے یہ آیت مراد ہے : کیف و اِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ تَأْبِي قُلُوبُهُمْ وَ أَكْثَرُهُمْ فسِقُونَ (التوبۃ:۸) ایسے مشرکوں کو کیونکر کوئی رعایت دی جاسکتی ہے جو اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہاری کسی رشتہ داری یا معاہدہ کی پرواہ نہ کریں۔ وہ اپنے منہ کی باتوں سے تمہیں خوش رکھتے ہیں۔ بحالیکہ ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر عہد و پیمان کو توڑنے والے ہیں۔ اور مخلص (۳) وَلِيجَ سے یہ آیت مراد ہے : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تُتْرَكُوا وَ لَمَّا يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ جَهَدُوا مِنْكُمْ وَ لَمْ يَتَّخِذُوا اللَّهِ ا مِنْ دُونِ اللهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ( التوبة : (١٦) (۱۶) کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم کو یو نہی چھوڑ دیا جائے گا۔ حالانکہ اب تک اللہ نے اُن لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے۔ ان کے مقابلہ میں جنہوں نے جہاد نہیں کیا) ظاہر نہیں کیا۔ جو خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے مقابلہ میں کفار سے خفیہ جوڑ توڑ نہیں رکھتے اور اللہ تمہارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس آیت کے حوالہ سے توجہ دلائی گئی ہے کہ اعلان براءة کی غرض یہ تھی کہ دشمہ تھی کہ دشمنان دین کو معاشر ن دین کو معاشرہ اسلامیہ میں میں گھس کر ریشہ دوانی کا موقع نہ ملے مخلصین و ابرار اور ان کے مقابل مفسدہ پردازوں کے درمیان نکھار ہو جائے۔ (۴) الشقة کے معنی سفر ابو عبیدہ سے مروی ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۹۹) اس سے آیت کو گان عَرَضًا قَرِيبًا وَ سَفَرًا قَاصِدَّ الاتَّبَعُوكَ وَلكِن بَعدَتْ عَلَيْهِمُ الشَّقَةُ ( التوبة : ۴۲) کی طرف توجہ منعطف کرائی گئی ہے۔ یعنی اگر قریب میں ملنے والا فائدہ ہوتا یا چھوٹا سفر تو وہ ضرور تیرے پیچھے چل پڑتے۔ لیکن انہیں مسافت دور معلوم ہوئی۔ معاشرہ اسلامیہ کا صحت مند حصہ دراصل وہی ہے جو اس کے دکھ سکھ میں شریک حال رہے۔ نہ ایسے لوگ جو پنجابی ضرب المثل کا مصداق ہوں مٹھا مٹھا ہڑپ کوڑا کوڑا تھو۔“ لفظ شُقَةٌ شَق سے ہے۔ اس کا مصدر مشقت ہے اور شاق اسم فاعل ہے یعنی تکلیف دہ سفر ۔ (۵) الخبالی کے معنی ہیں فساد۔ اس لفظ کی یہ شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۹۹) الخبائی سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے : لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَا أَوْضَعُوا خِلْلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَ فِيكُمْ سَمْعُونَ لَهُمْ وَاللهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِينَ ) ( التوبة : ۴۷) اگر وہ تمہارے ساتھ مل کر نکلتے تو خرابی پیدا کرنے کے سوا تمہاری کچھ مدد نہ کرتے اور وہ تمہارے درمیان (فساد کرنے کے لیے) خوب گھوڑے دوڑاتے پھرتے (اور) تمہارے اندر فتنہ پیدا کرنے کی خواہش کرتے اور تم میں (بھی) کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اُن تک پہنچانے کے لئے باتیں سنتے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ غرض مذکورۃ الصفات افراد معاشرہ اسلامیہ کا جزء بننے کے اہل نہیں ہیں۔ (۶) لا تفتنی کے معنی ہیں مجھے نہ جھڑ کیں، رڈ نہ کریں۔ جرجانی نے اس کے معنی توهني اور ابن سکن نے