صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 348
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۴۸ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة بھی نقل کی ہے کہ سورۃ الانفال کے تسلسل میں ہی سورۃ التوبہ نازل ہوئی ہے اس لئے حضرت عثمان نے اسے بوقت کتابت مصحف تسمیہ کے ذریعہ اسے الگ نہیں رکھا۔اس بارہ میں امام احمد بن حنبل، حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ان کے نزدیک یہ قول قابل اعتماد سمجھا گیا ہے۔(فتح الباری جلد ۸ صفحہ ۳۹۸) لیکن پہلا قول صحت سے زیادہ قریب ہے۔کیونکہ دوسری صورت میں ماننا پڑے گا کہ کسی کی رائے سے کلام اللہ کی ترتیب وغیرہ قائم کرنے میں معمولی تصرف کیا جا سکتا ہے جو صحیح نہیں۔فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لحفظونَ (الحجر: ۱۰) یہ ذکر یعنی قرآن ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں اور فرماتا ہے: لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَيْد ه حم السجدة : ۴۳) باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔بڑی حکمتوں والے اور بڑی تعریفوں والے خدا کی طرف سے وہ اُتارا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن حکیم کی لفظی صحت و ضبط اور اس میں عدم تصرف کے متعلق فرماتے ہیں: قرآن کریم وہ یقینی اور قطعی کلام الہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شعشہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معانی کے ساتھ خدائے تعالیٰ کا ہی کلام ہے اور کسی فرقہ اسلام کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں۔اس کی ایک ایک آیت اعلیٰ درجہ کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے۔وہ وحی متلو ہے جس کے حرف حرف گئے ہوئے ہیں۔وہ بباعث اپنے اعجاز کے بھی تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۴) اور آپ اپنی تصنیف تحفہ بغداد میں بزبان عربی فرماتے ہیں: ” والقرآن مخصوص بالقطعية التامة وله مرتبة فوق مرتبة كل کا کا كتاب و كل وحي، ما مسه ايدى الناس۔(تحفه بغداد، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۳۱) ترجمہ: اور قرآن پوری قطعیات سے مخصوص ہے اور ہر کتاب اور ہر وحی کے مرتبہ پر اس کے مرتبہ کو فوقیت حاصل ہے۔لوگوں کے ہاتھوں نے اسے چھوا تک نہیں۔اب سورۃ التوبہ کے محولہ بالا الفاظ کی شرح درج ذیل ہے: (1) مرصد کے معنی ہیں طریق۔اس کی جمع مَرَاصِد ہے۔مرصد کے معنی ہیں رصد گاہ، گھات کی جگہ جہاں سے دشمن کی نقل و حرکت کا علم حاصل ہو۔اس حوالہ میں یہ آیت مراد ہے: وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُل مرصد (التوبۃ:۵) اور ہر طریق سے اور ہر گھات کی جگہ سے (اُن کی نقل و حرکت دیکھنے کے لئے بیٹھ جاؤ۔فَانْ تابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَّوُا الزَّكوة فَخَتُوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبة: ۵) پس اگر وہ تو بہ کریں اور باجماعت نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو اُن کا راستہ کھول دو۔اللہ یقیناً بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔