صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 347 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 347

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۴۷ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة وَفَرَقًا۔وَقَالَ وَاحِدُهَا خَيْرَةٌ وَهِيَ الْفَوَاضِلُ مُرْجَونَ مفرد خَالِفَةٌ ہے۔اگر خَوَالِف مذکر یعنی (التوبة: ١٠٦) مُؤَخَّرُونَ۔الشَّفَا الشَّفِيرُ خَالِف کی جمع ہے تو اس وزن پر جمع کے دو ہی لفظ وَهُوَ حَدُّهُ۔وَالْجُرُفُ مَا تَجَرَّفَ مِنَ پائے گئے ہیں۔ایک فَارِس جس کی جمع فَوَارِسُ السُّيُولِ وَالْأَوْدِيَةِ۔هَادٍ (التوبة : ۱۰۹) ہے ایک هَالِك جس کی جمع هَوَالِكُ ہے۔هَائِرٍ۔{يُقَالُ تَهَوَّرَتِ الْبِئْرُ إِذَا انْهَدَمَتْ الْخَيْرُتُ جس کا مفرو خَيْرَةٌ ہے۔اس کے معنی وَانْهَارَتْ مِثْلُهُ } لأَوَّاهٌ شَفَقًا ہیں اعلیٰ درجہ کی نیکیاں۔مُرْجَونَ کے معنی ہیں وہ لوگ جن کا معاملہ ملتوی رکھا گیا۔شفا کے معنی ہیں کسی چیز کا کنارہ اور جرف وہ زمین ہے جو سیلابوں اور ندیوں کے بہنے سے نیچے سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ھار کے معنی ہیں گرنے والا۔کہتے ہیں تَقَوَرَتِ الْبِرُ جب کنواں گر جائے۔انهارت بھی اسی طرح ہے۔لاواہ کے معنی ہیں ڈر کی وجہ سے آہ و زاری کرنے والا۔اور ایک شاعر نے کہا ہے: إِذَا مَا قُمْتُ أَرْحَلُهَا بِلَيْلِ جب میں رات کو اٹھ کر اونٹنی پر کجاوہ رکھتا ہوں تَأَوَّهُ آهَةَ الرَّجُلِ الْحَزِينِ تو وہ غم زدہ آدمی کی طرح آہیں بھرتی ہے۔تشریح یہ سورۃ التوبہ" کے نام سے مشہور ہے اور بغیر تسمیہ ہے، جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ بیزاری کے اعلان پر مشتمل ہے۔جس میں ظالم مشرکین کو اُن کے مغلوب ہونے کے بعد مہلت دی گئی ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا حرم گاہ سے نکل جائیں۔حرم مکہ جو امن اور توحید کا گھر ہے وہ ظالم کو پناہ نہیں دیتا (دیکھئے روایت نمبر ۱۰۴) ان ظالموں کے اپنے نظریہ جبر و اکراہ کی یہی پاداش تھی۔چونکہ تسمیہ میں امن و پناہ کا مفہوم مضمر ہے اس لئے سورۃ براءۃ کے موضوع کا تقاضا ہے کہ اس کا آغاز بسم اللہ سے نہ ہو۔اعلان براءۃ اور تسمیہ کے مفہوم میں منافات و تضاد معانی ہے۔اس لئے اس سورۃ سے پہلے بسم اللہ نہیں۔امام ابن حجر نے ایک یہ وجہ یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق متن میں ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۳۹۸) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں الفاظ وَقَالَ الشَّاعِرُ ہیں ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۳۹۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔