صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 14 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 14

صحيح البخاری جلد ۱۰ سما ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة تھے، اس لئے صفات باری تعالیٰ کا علم اُن کو دیا جانا ضروری تھا اور یہی علم اصل ہے سارے علوم کی۔اس تعلق میں دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ جلد اوّل صفحہ ۳۱۳،۳۱۲۔رہا یہ سوال کہ روایت نمبر ۴۴۷۶ کا عنوان باب سے کیا تعلق ہے؟ میرے نزدیک روایت کا موضوع انبیاء علیہم السلام کی حیثیت کا بیان ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بطور نجات دہندہ مبعوث ہوئے تھے اور اس حیثیت سے اُن میں سے ہر نبی نے اپنی استعداد و استطاعت کے مطابق جدوجہد فرمائی۔لیکن ان میں کامل نجات دہندہ اور شفیع بنی نوع انسان نبی اکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے کہ وہ صفات باری تعالیٰ کی کامل معرفت عطا کئے گئے اور مظہر حق ٹھہرے۔آیت وَعَلَمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُهَا (البقرة : ٣٢) کی تشریح بیان کرنے کی غرض سے مذکورہ بالا روایت یہاں نقل کی گئی ہے۔روایت کے آخری الفاظ قابل توجہ ہیں۔فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيْدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَع - یعنی پھر میں اپنا سر اُٹھاؤں گا اور میں اُس کی وہ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا اور اس کے بعد میں سفارش کروں گا۔إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ کی وضاحت امام بخاری کی ہے۔یعنی وہ لوگ جن کی نسبت قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وہ آگ میں ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوں گے ، وہ میر کی شفاعت سے محروم ہو جائیں گے۔لیکن رحمت ربانی ان کا تدارک فرمائے گی۔دیکھئے کتاب الرقاق، باب ۵۲، روایت نمبر ۶۵۷۳۔باب ۲ قَالَ مُجَاهِدٌ : إِلى شَيُطِينِهِم (البقرة : ١٦) مجاہد نے کہا: (إِذَا خَلَوْا) إلى شَطِينِهِمْ سے ان کے أَصْحَابِهِمْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُشْرِكِيْنَ وہ ساتھی مراد ہیں جو منافق و مشرک ہیں۔محیط محيط بالكفِرِينَ (البقرة : ٢١) الله بالفرین کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اُن کو اکٹھا جَامِعُهُمْ۔{ صِبْغَةٌ دِينَ } عَلَى کرنے والا ہے۔(مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ ) صِبْغَةً سے مراد دین ہے۔عَلَى الْخَشِعِينَ سے مراد پکے الخشِعِينَ (البقرة :٤٦) عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مومنوں پر۔مجاہد نے کہا: (خُذُوا مَا فِيْهِ) بِقُوَّةٍ حَقًّا۔قَالَ مُجَاهِدٌ : بِقُوَّةٍ (البقرة : ٦٤) میں قوت سے یہ مراد ہے کہ اس میں جو احکام يَعْمَلُ بِمَا فِيْهِ۔ہیں اُن پر عمل کریں۔وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ مَرَضٌ (البقرة : ۱۲) ابو العالیہ نے کہا: ( فِي قُلُوبِهِمْ ) مرضٌ سے مراد شک شَكٍّ۔وَمَا خَلْفَهَا (البقرة : ٦٧) عِبْرَةٌ (جو ان کے دلوں میں ) ہے۔( نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا ) لِمَنْ بَقِيَ۔لَا شِيَةَ (البقرة: ۷۲) لَا وَمَا خَلَفَها سے مراد یہ ہے کہ وہ باقیوں کے لئے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲۰۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔وريا