صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 345 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 345

۳۴۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال صحيح البخاری جلد ۱۰ میں ابھی کمزوری ہے۔جس کی وجہ سے تخفیف کا حکم دیا گیا ہے کہ ایک مسلمان دو کا مقابلہ کریں۔بابے کی روایت میں یہ وجہ نمایاں کی گئی ہے۔سورۃ الانفال کی محولہ آیات سے ظاہر ہے کہ احکام الہیہ کے نفاذ میں مخاطبین کے مخصوص حالات ضعف و قوت کو ملحوظ رکھنا حکیمانہ طریق ہے۔مبلغین اسلام بھی اصلاح حال میں یہی اصل مد نظر رکھیں۔سفیان بن عیینہ اور ابن شہر مہ کے قول کا حوالہ جو ضمنا دیا گیا ہے۔اس سے یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔ابو نعیم نے اپنی مستخرج میں مذکورہ بالا حوالہ نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۹۵) لیکن مذکورہ بالا اجازت کے یہ معنی نہیں کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال یا کوئی حکم منسوخ یا کم و بیش کر دیا جائے۔مثلاً پانچ نمازوں کی جگہ دو نمازیں کہ قطبین میں پانچ معروف اوقات کی وہ صورت نہیں جو ایشیاء غیرہ ممالک میں ہے۔جہاں رات یا دن مثلاً چھ چھ ماہ کے ہیں وہاں کے لئے شارع اسلام نے فَاقْدُرُوا لَهُ فرما کر اندازہ کرنے کی اجازت دی ہے۔۔ایسی جگہوں میں کاروبار و آرام و استراحت کے اوقات ملحوظ رکھ کر پانچ نمازوں کا اندازہ کرنا ہو گا۔خود قرآن مجید کے حکم اقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ (بنی اسرائیل: ۷۹) میں بھی اندازہ کی گنجائش موجود ہے۔اسی طرح روزوں کے لئے ماہ رمضان کے ایام ہی میں سحری و افطاری کے وقت کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے اور یہ جائز نہیں کہ وہاں کے لئے روزے منسوخ سمجھے جائیں۔ارکان اسلام از قبیل حالات ہیں، جو تزکیہ نفس و حصول قرب الہی کے لیے ضروری ہیں۔اگر ایک جگہ اُن کی پابندی کے بغیر یہ غرض حاصل ہو سکتی ہو تو پھر دوسری جگہوں میں اُن کی کیا ضرورت ہے۔عالمی معاشرہ اسلامیہ کی یگانگت و یک جہتی کی صورت کا قائم رکھنا نا ممکن نہیں، اگر عقل و فکر اور جذبات ایمان کو روح اخلاص اور عزم صمیم سے بروئے کار لایا جائے۔حج و جہاد ہر ذی استطاعت پر واجب ہے اور بعض حالات میں ان کا بدل تجویز کیا گیا ہے۔یعنی حج بدل اور بدل نقدی۔روزے میں بھی فدیہ ہے۔لیکن اس کے با وجود فَعِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ أُخَرَ (البقرة: ۱۸۵) کا ارشاد ہے۔غرض نہ ارکان میں سے کوئی رکن ساقط ہوتا ہے اور نہ حلال و حرام میں تصرف جائز ہے۔AAA (سنن ابن ماجه، کتاب الفتن، باب فتنة الرجال و خروج عیسی ابن مریم ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "سورج کے ڈھلنے سے شروع ہو کر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: چاہئے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔“