صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 344
صحیح البخاری جلد ۱۰ سوم هم ۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنفال السُّلَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ که عبد الله بن مبارک نے ہمیں بتایا کہ جریر بن أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حازم نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: زبیر بن الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ حُریت نے مجھے بتایا۔انہوں نے عکرمہ سے، ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِيتِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَکرمہ نے حضرت ابن عباس ر ﷺ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: اگر نَزَلَتْ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ تم میں سے میں ثابت قدم رہنے والے (مومن) يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ (الأنفال: (٦٦) شق ہوں گے تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب آجائیں ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِینَ حِينَ فُرِضَ گے۔مسلمانوں پر یہ فرض کیا گیا کہ اُن میں سے عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةِ ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے تو مسلمانوں فَجَاءَ التَّخْفِيفُ فَقَالَ النَ خَفِّفَ کے لئے یہ مشکل ہوا۔پھر تخفیف کا حکم آیا اور فرمایا: اللهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ آنَ فِيْكُمْ ضَعُفَا فَإِنْ ابھی اللہ نے تم سے بوجھ کو ہلکا کر دیا ہے۔اور جان أَنَّ يكن مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا لیا ہے کہ تم میں (ابھی) کچھ کمزوری ہے۔(یعنی سب مومن انتہائی درجہ کے مومن نہیں ہو چکے ) مائتين (الأنفال: ٦٧) قَالَ فَلَمَّا پس چاہیے کہ اگر تم میں سے سو ثابت قدم رہنے خَفَّفَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ نَقَصَ والے (مومن ) ہوں تو دوسو (کافروں) پر غالب مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خُفِّفَ عَنْهُمْ۔آجائیں اور اگر تم میں سے ہزار ثابت قدم رہنے والے مومن ہوں تو دو ہزار (کافروں) پر اللہ کے حکم سے غالب آجائیں اور اللہ ثابت قدم رہنے والے لوگوں کے ساتھ ہے۔حضرت ابن عباس نے کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کردی اتنا ہی اندازہ صبر کا بھی نظر انداز کر دیا طرفه: ٤٦٥٢۔جتنا کہ تعداد میں اُن سے تخفیف کی گئی۔يايُّهَا النَّبِيُّ حَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ۔۔۔: علامہ عبد الله بن شبر مه قاضی کوفہ کی وسعت تاویل سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا تصرف کا جواز قتال ہی سے مخصوص نہیں۔بلکہ دیگر اوامر و نواہی میں بھی حالات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۹۶) باب نمبرے میں دوسری آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں یہ تصریح ہے: عَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا (الأنفال: ۶۷) یعنی اسے معلوم ہے کہ تم