صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 343
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۴۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنفال الله رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا نَزَلَتْ إِنْ يَكُن نے عمرو بن دینار) سے، عمرو نے حضرت ابن مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ عباس سے روایت کی۔ جب یہ آیت نازل (الأنفال: ٦٦) فَكُتِبَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا ہوئی: اگر تم میں سے ہیں ثابت قدم رہنے والے يَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَةِ فَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ (مومن) ہوں گے تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب آجائیں گے۔ تو اس وقت مسلمانوں پر فرض کیا مَرَّةٍ أَنْ لَا يَفِرَّ عِشْرُونَ مِنْ مِائَتَيْنِ گیا کہ اُن میں سے ایک دس کے مقابلہ سے نہ ثُمَّ نَزَلَتْ الْنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ بھاگے۔ سفیان نے کئی بار یوں بھی کہا: میں دو سو (الأنفال: ٦٧) الْآيَةَ فَكَتَبَ أَنْ لَا کے مقابل نہ بھاگیں۔ پھر اس کے بعد یہ آیت يَفِرَّ مِائَةٌ مِنْ مِائَتَيْنِ وَزَادَ سُفْيَانُ مَرَّةً نازل ہوئی یعنی اب اللہ نے تم سے تخفیف کی ہے تو نَزَلَتْ حَرْضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ اِنْ اُن پر یہ فرض کیا کہ سو دو سو کے مقابلہ سے نہ يكُن مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ بھاگیں ۔ ایک بار سفیان نے اس روایت میں یہ (الأنفال : ٦٦ )۔ قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ مزید بیان کیا کہ یہ آیت اتری یعنی مومنوں کو ابْنُ شُبْرُمَةَ وَأَرَى الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ (کافروں سے) لڑنے کی بار بار زور سے تحریک کرتا وَالنَّهْيَ عَنْ الْمُنْكَرِ مِثْلَ هَذَا۔ رہ۔ اگر تم میں سے ہیں ثابت قدم رہنے والے طرفه: ٤٦٥٣۔ (مومن) ہوں گے۔ سفیان نے کہا: اور (عبد الله ) بن شبرمہ (قاضی کوفہ ) کہتے تھے : میں سمجھتا ہوں امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں بھی یہی حکم ہے۔ باب: ٧ الْنَ خَفَّفَ اللهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا الْآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ وَاللهُ مَعَ الصَّبِرِينَ (الأنفال : ٦٧ ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) ابھی اللہ نے تم سے بوجھ کو ہلکا کر دیا ہے۔ اور جان لیا ہے کہ تم میں (ابھی) کچھ کمزوری ہے۔ (یعنی سب مومن انتہائی درجہ کے مومن نہیں ہو چکے ) پس چاہیے کہ اگر تم میں سے سو ثابت قدم رہنے والے (مومن) ہوں تو دو سو (کافروں) پر غالب آجائیں اور اگر تم میں سے ہزار ثابت قدم رہنے والے مومن ہوں تو دو ہزار (کافروں) پر اللہ کے حکم سے غالب آجائیں اور اللہ ثابت قدم رہنے والے لوگوں کے ساتھ ہے۔ ٤٦٥٣ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۶۵۳ : يحي بن عبد الله سلمی نے ہم سے بیان کیا