صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 342 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 342

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۴۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال وَكَانَ الدُّخُولُ عَلَيْهِمْ فِتْنَةً وَلَيْسَ فتنہ کیا ہوتا ہے؟ محمد صل ال یکم مشرکوں سے لڑائی کیا كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ۔کرتے تھے اور مشرکوں کے پاس جانا بھی ایک فتنہ ہوتا تھا اور (آپ کی لڑائی ) تمہاری اس لڑائی کی طرح نہ تھی جو ملک کی خاطر ہے۔أطرافه ۳۱۳۰، ۳۶۹۸، ۳۷۰ ریح -٤٥، ٤٦٥٠، ٧٠٩٥۱٤٠٦٦ ، ٤٥١٣، ٤٥١٤ ٥ وَقُتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُونَ الدِّين كُله لله : مذکورہ بالا یہ حکم سورۃ الانفال آیت نمبر ۴۰ میں موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ موعودہ سزا کا نفاذ خود مظلومین کے ہاتھوں سے ہو گا اور اس سزا کی غرض یہ ہے کہ افرادِ معاشرہ کو اپنی آزادی حاصل ہو۔ہر شخص اللہ ہی کے لئے دین اختیار کرنے والا ہو، نہ کسی غیر اللہ کے خوف سے، جیسا کہ اس بارے میں دوسری جگہ ان الفاظ میں صراحت ہے لا إكراه في الدين (البقرۃ: ۲۵۷) دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں۔روایت زیر باب میں حضرت ابن عمرؓ کی سند سے فتنہ کا مفہوم واضح کرتے ہوئے یہی بات ذہن نشین کروائی گئی ہے۔اُن سے دریافت کرنے والا خوارج سے تھا۔یہی روایت مناقب حضرت عثمان میں بھی گزر چکی ہے (دیکھئے روایت نمبر ۳۶۹۸) امام ابن حجر" کا خیال ہے کہ اس قسم کے اعتراض کرنے والے کئی تھے۔خارجی بھی اور رافضی بھی۔خارجی تو دونوں حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کو زیر الزام سمجھتے تھے اور رافضی صرف اول الذکر کو۔جہاں صرف حضرت عثمان کے خلاف اعتراض کا ذکر ہے تو وہاں معترض رافضی معلوم ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۹۴) باب کی دوسری روایت میں دینی جنگ اور سیاسی جنگ میں فرق نمایاں کیا گیا ہے۔حضرت معاویہ کی جنگ سیاسی نوعیت کی تھی۔باب ٦ : اَيُّهَا النَّبِيُّ حَيْضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ اِنْ يَكُن مِنْكُم عِشْرُونَ طيرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مَائَةٌ يَغْلِبُوا الْفَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْم لَا يَفْقَهُونَ (الأنفال : ٦٦) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) اے نبی ! مومنوں کو (کافروں سے) لڑنے کی بار بار زور سے تحریک کرتارہ۔اگر تم میں سے ہیں ثابت قدم رہنے والے (مومن) ہوں گے تو وہ دوسو (کافروں) پر غالب آجائیں گے اور اگر سو ( ثابت قدم رہنے والے مومن) ہوں گے تو وہ ایک ہزار کا فروں پر غالب آجائیں گے کیونکہ وہ ایسی قوم ہیں جو سمجھتے نہیں ( جبکہ مومن سمجھ بوجھ کر اپنے ایمان پر قائم ہیں) ان لوگوں پر جو کا فر ہیں۔یہ اس لئے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔٤٦٥٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۶۵۲ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں