صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 341 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 341

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۴۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال فَكَرِهْتُمْ أَنْ يَعْفُو عَنْهُ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صل ال تیم عَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں اس پر عمل کیا جب کہ مسلمان بہت وَخَتَنُهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ وَهَذِهِ ابْنَتُهُ أَوْ تھوڑے تھے اور اس وقت آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے ابتلاء میں ڈال دیا جاتا تھا یا اسے قتل کر بِنْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ۔ڈالتے یا اسے جکڑ دیتے، آخر یہ زمانہ ہوا کہ مسلمان بہت ہو گئے اور وہ فتنہ نہ رہا۔جب اس نے دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر جو بات وہ چاہتا ہے اس میں اس کے ساتھ متفق نہیں ہوتے تو اس نے پوچھا: پھر آپ حضرت علی اور حضرت عثمان کی نسبت کیا کہتے ہیں؟ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: حضرت علی اور حضرت عثمان کی نسبت میں کیا کہتا ہوں۔حضرت عثمان جو ہیں تو اللہ نے انہیں معاف کر دیا اور تم نے بُرا منایا کہ وہ انہیں معاف کر دے اور حضرت علی جو ہیں تو وہ تو رسول اللہ صلی علیم کے چچا کے بیٹے اور داماد ہیں اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا یہ ان کی بیٹی وہاں ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔راوی نے ابنته کہا یا بنتہ کہا۔أطرافه : ٣١٣٠، ٣٦٩٨، ٣٧٠٤، ٤٠٦٦، ٤٥۱۳، ٤٥١٤، ٤٥١٥، ٤٦٥١، ٧٩٥۔٤٦٥١: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۴۶۵۱ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا بَيَانٌ أَنَّ وَبَرَةَ بن معاویہ) نے ہمیں بتایا کہ بیان (بن بشر ) نے ہم سے بیان کیا کہ وبرہ ( بن عبد الرحمن) نے اُن کو بتایا، کہا: سعید بن جبیر نے مجھ سے بیان کیا، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا أَوْ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ کہا: حضرت ابن عمر ہمارے پاس یا کہا: ہماری فَقَالَ رَجُلٌ كَيْفَ تَرَى فِي قِتَالِ طرف باہر آئے تو ایک شخص نے کہا: آپ اس الْفِتْنَةِ فَقَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ فتنہ میں لڑنے کے بارے میں کیا خیال کرتے كَانَ مُحَمَّدٌ لا يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ہیں ؟ انہوں نے کہا: اور کیا تمہیں پتہ بھی ہے کہ