صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 340
صحيح البخاری جلد ۱۰ مسم ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ پاس آیا، کہنے لگا: ابو عبد الرحمن! کیا آپ سنتے ہیں أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللهُ فِي كِتَابِهِ جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے ؟ اور اگر وَإِن طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا إِلَى مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں میں صلح کرا دو۔پھر اگر صلح ہو جانے کے آخِرِ الآيَةِ (الحجرات: ١٠) فَمَا بعد اُن میں سے کوئی ایک دوسرے پر چڑھائی يَمْنَعُكَ أَنْ لَا تُقَاتِلَ كَمَا ذَكَرَ الله کرے ، تو سب مل کر اس چڑھائی کرنے والے فِي كِتَابِهِ؟ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أُعَيَّرُ کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم بِهَذِهِ الْآيَةِ وَلَا أُقَاتِلُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کی طرف لوٹ آئے پھر اگر وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان (دونوں أَنْ أُعَيَّرَا بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي يَقُولُ لڑنے والوں) میں صلح کرادو اور انصاف کو مد نظر اللهُ تَعَالَى وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا رکھو۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔إلى آخرها (النساء: ٩٤) قَالَ فَإِنَّ (کہا: ) پھر آپ کو کیا رکاوٹ ہے کہ آپؐ نہیں الله يَقُولُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ لڑتے جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔فتْنَةٌ (الأنفال: ٤٠) قَالَ ابْنُ عُمَرَ اُنہوں نے یہ سن کر کہا: اے میرے بھتیجے ! اس آیت کے معنی سمجھنے میں مجھے غلط فہمی نہیں ہوئی قَدْ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اور میں نہ لڑوں یہ بات مجھے پسند ہے بہ نسبت اس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ الْإِسْلَامُ بات کے کہ میں اس آیت کو سمجھ کر مغالطہ میں قَلِيلًا فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا رہوں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی جو يَقْتُلُوهُ وَإِمَّا يُوتِقُوهُ حَتَّى كَفَرَ (شخص) کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے گا تو اس الْإِسْلَامُ فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ فَلَمَّا رَأَى كى سزا جہنم ہو گی۔وہ اس میں دیر تک رہتا چلا أَنَّهُ لَا يُوَافِقُهُ فِيمَا يُرِيدُ قَالَ فَمَا جائے گا اور اللہ اس سے ناراض ہو گا اور اسے (اپنی جناب سے ) دور کر دے گا اور اس کے لیے قَوْلُكَ فِي عَلِي وَعُثْمَانَ قَالَ ابْنُ (بہت) بڑا عذاب تیار کرے گا۔وہ شخص کہنے لگا: عُمَرَ مَا قَوْلِي فِي عَلِيّ وَعُثْمَانَ الله تعالیٰ تو فرماتا ہے: اور اُن (کفار) سے لڑتے أَمَّا عُثْمَانُ فَكَانَ اللهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ جاؤ یہاں تک کہ جبر کا نام و نشان باقی نہ رہے۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق اس جگہ لفظ اعتر“ ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۳۹۳)