صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 339 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 339

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۳۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً تھے ) کہ ابو جہل نے کہا: اے اللہ اگر یہی تیری مِنَ السَّمَاءِ أَوِ اثْتِنَا بِعَذَابِ الیم طرف سے حق ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا، (الأنفال: ۳۳) فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللهُ یا کوئی نہایت درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔تو یہ ليعد بهم وَانتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ الله آیت نازل ہوئی: لیکن اللہ انہیں اس حالت میں مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمُ عذاب نہیں دے سکتا تھا جبکہ تو ان میں تھا اور نہ اللہ ان کو ایسی حالت میں عذاب دے سکتا تھا يعت بهم اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَن جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں اور ان کو کیا (مقام الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (الأنفال: ٣٤ ، (٣٥) الْآيَةَ۔طرفه: ٤٦٤٨۔حاصل ہے جس کی وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ عزت والی مسجد ( یعنی خانہ کعبہ ) سے (لوگوں کو) روکتے ہیں۔اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا۔اور وہ درحقیقت اس کے متولی نہیں اس کے (حقیقی) متولی تو صرف متقی ہیں لیکن ان (کفار) میں سے اکثر اس بات کو جانتے نہیں۔: تشريح : وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ وَاَنْتَ فيهم۔۔۔۔اس باب میں آیت کے تکرار سے سیاق کلام کے دوسرے حصے کی طرف توجہ دلانا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ کفار مکہ سزائے الہی کے مستوجب ہو چکے ہیں اور وہ سزا پائیں گے مگر اپنے وقت پر جیسا کہ سورۃ الانفال آیت ۳۵ میں صراحت ہے۔بابه وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينِ كُلُّهُ لِلَّهِ (الأنفال: ٤٠) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور تم اُن سے اس وقت تک لڑتے رہو کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ ہی کے لیے ہو جائے ٤٦٥٠ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ۴۶۵۰: حسن بن عبد العزیز نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا حَيْوَةُ عبد الله بن یحی نے ہم سے بیان کیا کہ حیوہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے بکر بن عمرو سے ، بکر نے بگیر عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ سے، نگیر نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص اُن کے