صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 338
صحیح البخاری جلد ۱۰ وو ۳۳۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال اللہ تعالیٰ ابو جہل وغیرہ کی بددعا کا جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفقت و رحمت تاب و قلب رقیق اور آپ کی غرض بعثت کے پیش نظر فرماتا ہے کہ اس کی شان سے بعید ہے کہ وہ انہیں نظر انداز کر کے لوگوں کی احمقانہ دعاؤں پر اپنی مخلوق کو عذاب میں مبتلا کر دے۔بستی یا قوم پر عذاب نازل کرتے وقت ان کمزور صحابہ کا بھی خیال نہ رکھے جو شب و روز استغفار میں مشغول ہیں۔خدا غضب میں دھیما ہے اور بینا۔اس کے مؤاخذہ میں دیر تو ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہو سکتا۔قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات اند وہ گیس اور قلب رقیق کا ذکر کئی جگہ وارد ہوا ہے۔فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمُ (آل عمران: ١٢٠) فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ آسفاه (الکھف: ) قوم کی تباہی سے جو صدمہ آپ کو ہو سکتا تھا اس کا تصور ہمارے لئے ناممکن ہے اور جو غم آپ کو صحابہ کرام کے لئے تھا اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ہمہ گیر عذاب الہی کے وقت تو کس و ناکس متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور سنت اللہ قدیم سے یہی ہے کہ بعثت کی اصل غرض یعنی اصلاح اور انبیاء کے جذبات شفقت و ر آفت اور ان کے کمزور ساتھیوں کا خیال دشمنوں کے احمقانہ مطالبہ پورا کرنے پر مقدم رکھا جاتا ہے۔تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بار بار استغفار پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو جواب دیا گیا تھا وہ اس راز پنہاں کو بخوبی آشکار کرتا ہے۔شاید وہاں (سدوم میں ) دس (نیک) ملیں۔اس نے کہا کہ میں دس کی خاطر بھی اسے نیست نہیں کروں گا۔(دیکھئے پیدائش باب ۱۸: ۲۳ تا۳۳) محولہ آیات میں بھی اسی سنت الہی کا ذکر ہے۔بَاب ٤ : وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُم يَسْتَغْفِرُونَ (الأنفال : ٣٤) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) لیکن اللہ انہیں اس حالت میں عذاب نہیں دے سکتا تھا جبکہ تو ان میں تھا اور نہ اللہ ان کو ایسی حالت میں عذاب دے سکتا تھا جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں ٤٦٤٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ :۴۶۴۹ محمد بن نضر نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ بن حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَادٍ حَدَّثَنَا أَبِي معاذ نے ہم سے بیان کیا (کہا: ) میرے باپ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔صَاحِبِ الرِّيَادِيَ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ زیادی کے دوست عبد الحمید سے مروی ہے۔قَالَ أَبُو جَهْلِ اللَّهُمَّ اِنْ كَانَ هَذَا هُوَ اُنہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا، (کہتے ا ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع : " پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تو ان کے لئے نرم ہو گیا۔“ ترجمه حضرت خلیفه المـ السابع : " پس کیا تو شدت غم کے باعث اُن کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں۔“