صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 337
صحيح البخاری جلد ۱۰ ط الآية (الأنفال: ٣٥،٣٤)۔۳۳۷ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنفال فيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ ہوئی۔لیکن اللہ انہیں اس حالت میں عذاب نہیں يَسْتَغْفِرُونَ وَ مَا لَهُمُ اَلَا يُعَذِّبَهُمُ دے سکتا تھا جبکہ تو ان میں تھا اور نہ اللہ ان کو ایسی اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حالت میں عذاب دے سکتا تھا جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔اور ان کو کیا (مقام حاصل ) ہے جس کی وجہ سے باوجود اسکے کہ وہ عزت والی مسجد (یعنی خانہ کعبہ ) سے (لوگوں کو) روکتے ہیں۔اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا۔اور وہ درحقیقت اس کے متولی نہیں اس کے (حقیقی) متولی تو صرف متقی ہیں لیکن ان (کفار) میں سے اکثر اس بات کو طرفه: ٤٦٤٩۔یح: جانتے نہیں۔وَاِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ۔۔۔۔اس آیت کے تعلق میں سفیان بن عیینہ کی تفسیر کا حوالہ دے کر مطر اور غیب کا جو فرق منقول ہے اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ مطرُ عام بارش کے معنوں میں بھی وارد ہوا ہے جیسا کہ آیت اِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّنْ مَّطَرٍ (النساء : ۱۰۳) میں، آڈی ( تکلیف) سے بھیگنا مراد ہے نہ کہ عذاب - ابو عبیدہ سے منقول ہے کہ أُفطِرَتْ بمعنی عذاب اور لمطرت بمعنی برسات ہے۔یہ قول بھی امام ابن حجر" کے نزدیک کمزور ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۹۱) مذکوره اختلاف مد نظر رکھتے ہوئے باب کے تحت جو حدیث نقل کی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں ابو جہل کا قول مذکور ہے کہ اگر محمد بچے ہیں تو ہم پر پتھر برسا۔جس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس راستباز انسان کے تمہارے درمیان موجود ہونے کی وجہ سے تمہیں سزا نہیں ہو گی۔عذاب یا عام سزا کے لئے الگ قانون ہے۔اس رسول کی بعثت تو آمر رحمت ہے نہ بطور سزا۔سزا کا تعلق تو تمہاری بد عملی و سرکشی سے ہے، جس کا ظہور سنت اللہ کے مطابق اپنے وقت پر ہو گا۔الفاظ مطر، افطار اور غیث کی موشگافی میں پڑنے کا موقع نہیں۔بلکہ آیت کا مفہوم سمجھنے کی ضرورت ہے۔دیکھئے سورۃ الانفال آیات ۳۴، ۳۵۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: لیکن اللہ اُنہیں اس حالت میں عذاب نہیں دے سکتا تھا جب کہ تو اُن میں تھا اور نہ اللہ ان کو ایسی حالت میں عذاب دے سکتا تھا جب کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔اور ان کو کیا ( مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ عزت والی مسجد ( یعنی خانہ کعبہ ) سے (لوگوں کو ) روکتے ہیں اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا اور وہ درحقیقت اس کے متولی نہیں اس کے (حقیقی) متولی تو صرف متقی ہیں، لیکن ان (کفار) میں سے اکثر اس بات کو جانتے نہیں۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی مشکل ہو “