صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 13 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 13

صحیح البخاری جلد ۱۰ الله ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة معرفت اس علم کو شامل رکھتی ہے جس کا تعلق مخلوق سے ہے۔ دوسرا امر جو جواب کے وقت نظر انداز ہے وہ الفاظ گل“ اور ”جمع“ کے درمیان فرق ہے۔ کل اس کے معنی ہیں ہر نام اور جمیع کے معنی ہیں سب الاسماء كُلَهَا سے مراد سب نام سمجھنا غلطی ہے۔ بلکہ اس کے معنی ہیں: اسماء کلیہ اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت آدم علیہم السلام کو اسماء کلیہ کے ادراک کی قابلیت عطا کی گئی اور تصور کلی کی قابلیت ہی انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے۔ حیوانی اور انسانی بچے کی علم کے لحاظ سے ایک ہی کیفیت ہوتی ہے۔ وہ دونوں جس چیز کو دیکھتے ہیں، اس سے اس شے کی صورت و شکل ان کے آئینہ ذہن میں ہوتی ہے، جسے وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس سے اُن کا ذہن کوئی ایسا تصور اخذ نہیں کرتا جسے وہ مشابہہ اشیاء پر بھی منطبق کر سکتے ہوں۔ مثلاً بچہ کرسی کمرہ میں دیکھتا ہے ، اسے اُس کرسی کے وجود کا احساس ہو گا۔ یہ احساس کہ اس شکل کی ہر شے کرسی ہے، اس میں بڑا ہونے پر پیدا ہو گا۔ انسان پر ایک زمانہ آیا ہے کہ تصورات ذہنی میں اس کی حالت بچے کی سی تھی۔ جس چیز کو دیکھتا، اُس چیز کا احساس رکھتا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے مختلف قسم کے پودوں کو دیکھا اور ان میں تنے، شاخوں، ٹہنیوں، پتوں، پھولوں اور پھلوں کا اشتراک دیکھ کر اس جنس کی اشیاء کا ایک نام الہام الہی سے تجویز فرمایا، جس میں زمین کا ہر پودا شامل ہے۔ درخت کے نام میں کروڑہا شاخ و پیتیاں رکھنے والی چیزیں شامل ہیں۔ یہ لفظ اسم کلی کہلائے گا۔ اسی طرح گندم، جو، چاول، پیاز و غیره اسماء اجناس اسماء کلیہ ہیں، جو حضرت آدم علیہ السلام کو وحی الہی کے ذریعہ سکھائے گئے اور اس تعلیم الہی کا نتیجہ یہ ہے کہ جوں جوں انسان خواص الاشیاء کے علم میں ترقی کرتا جاتا ہے ، ناموں کی کتاب لغت ( قاموس) ضخیم سے ضخیم ہوتی جاتی ہے۔ انسان کی قابلیت معمولی نہ سمجھی جائے۔ بلکہ اس کا مایہ ناز امتیاز ہے اور اس قابلیت کے یہ معنی ہیں کہ اسے اشیاء کی ظاہر صورت و شکل و شکل شناخت کرنے اور ان کے اوصاف میں جو مماثلت یا اختلاف ہے، اسے پہچاننے ا اننے اور ہر ایک شے میں جو خواص موجود ہیں، انہیں معلوم کرنے کی قدرت ہے اور اُس نے کائناتِ عالم کا بلحاظ صورت و شکل اور اوصاف و خواص مقابله و موازنہ کر کے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا اور ہر ایک شے کا نام رکھا۔ شے کا نام رکھا۔ مثلاً لکھی، پھر شہد کی مکھیاں، پھر اُن کی ملکہ (Queen)، اسی طرح اور لاکھوں اور کروڑوں مخزن ہیں۔ انسان کا علم اور اس کی معلومات جن کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا اور اللہ ہی جانتا ہے کہاں اس کا انتہاء ہے۔ یہ نام جہاں حضرت آدم اور بنی آدم کی استعداد فطری پر دلالت کرتے ہیں، اس کے ساتھ صفاتِ باری تعالیٰ پر بھی دال ہیں اور اس اعتبار سے انسان کا یہ امتیاز اُسے ملائکہ پر بھی فوقیت دیتا ہے کہ وہ یہ قابلیت نہیں رکھتے اور اس میں اس کے سامنے سر بسجود و مطیع اور اس کے مددگار و ساز گار ہیں۔ ملائکہ کی یاوری و ساز گاری ہی کا نتیجہ ہے کہ انسان کے علمی ارتقاء کا دائرہ تحقیق و استنباط وسعت پذیر اور دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ غرض لفظ ”کل “ اور ”جميع“ کا فرق مد نظر نہ رکھنے سے علماء کو آیت وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ( البقرة : ٣٢) کا مفہوم سمجھنے میں مشکل پیش آئی ہے، جس کا ذکر علامہ ابن حجر نے ان الفاظ میں کیا ہے: وَقِيلَ أَسْمَاءُ الْأَجْنَاسِ دُونَ أَنْوَاعِهَا ( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۲۰۱) حضرت آدم علیہ السلام زمین میں بطور خلیفۃ اللہ مبعوث ہوئے