صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 336
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنفال تشريح : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۔۔۔۔۔ اس آیت میں لِمَا يُحْيِيكُمْ کے معنی ہیں: اس بات کی طرف جو تمہاری اصلاح کرے۔ احیاء بمعنی اصلاح ہے۔ اللہ اور رسول کی بات مانو کیونکہ وہ ان باتوں کی راہنمائی کرتے ہیں جن سے تمہاری اصلاح ہو گی۔ تفسیر سورة آل عمران باب ۱۲ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے ۔ باب : ۳ وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هُذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (الأنفال : ٣٣) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور جب اُنہوں نے کہا اے اللہ اگر یہی تیری طرف سے حق ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا، یا کوئی نہایت دردناک عذاب ہم پر لے آ۔ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَا سَمَّى اللهُ مَطَرًا فِي ابن عیینہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں الْقُرْآنِ إِلَّا عَذَابًا، وَتُسَمِّيهِ الْعَرَبُ مَطَرًا کا نام لیا ہے تو اس سے مراد عذاب ہی ہے الْغَيْثَ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى : وَهُوَ الَّذِی اور عرب لوگ بارش کو غیث کہتے ہیں اور اللہ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا (شوری: (۲۹) تعالی نے بھی یہی کہا: اور وہی ہے جو مایوسی کے بعد بارش اُتارتا ہے۔ ٤٦٤٨ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ۴۶۴۸ : احمد بن نضر بن عبد الوہاب نے مجھ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَادٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سے بیان کیا کہ عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں بتایا، شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ كُرْدِيدٍ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں صَاحِبُ الرِّيَادِي سَمِعَ أَنَسَ بْنَ بتایا۔ اُنہوں نے زیادی کے دوست عبد الحمید سے مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ جو کہ گر دید کے بیٹے ہیں روایت کی۔ انہوں نے اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هُذَا هُوَ الْحَقِّ مِنْ عِنْدِكَ حضرت انس بن مالک ﷺ سے سنا کہ ابو جہل الله فَامْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ نے کہا: اے اللہ اگر یہی تیری طرف سے حق أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (الأنفال: ۳۳) ہے تو آسمان سے ہم پر پتھر برسا، یا کوئی نہایت فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّ بَهُمْ وَاَنْتَ درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ تب یہ آیت نازل