صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 335
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۳۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال الله اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِي؟ أَلَمْ يَقُل اللهُ: وود رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُبَيْبِ بْنِ ( بن عبادہ) نے ہمیں خبر دی کہ شعبہ نے ہمیں عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ بتایا، حبیب بن عبد الرحمن سے روایت ہے۔يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْن الْمُعَلَّى (انہوں نے کہا: ) میں نے حفص بن عاصم سے قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ بِي رَسُولُ سنا۔وہ حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔اُنہوں نے کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں رسول الله صلى اللی کم میرے پاس سے گزرے۔آپ نے مجھے بلایا۔میں آپ کے پاس نہ گیا۔جب میں لِلَّهِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُ اللهِ وَلِلرَّسُولِ نے نماز پڑھ لی تو پھر آپ کے پاس آیا۔تو آپ إذَا دَعَاكُمُ (الأنفال: ٢٥) ثُمَّ قَالَ نے پوچھا: تم کو آنے سے کس بات نے روکا؟ کیا لأَعَلِمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةِ فِي الْقُرْآنِ اللہ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! اللہ اور اس قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ۔فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ کے رسول کی بات سنو ، جبکہ وہ تمہیں ( زندہ کرنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ فَذَكَرْتُ کے لیے) پکارے پھر آپ نے فرمایا: میں تمہیں لَهُ۔وَقَالَ مُعَاذْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُبَيْبِ یشتر اس کے کہ یہاں سے باہر نکلوں ایک ایسی سورۃ کا علم دوں گا جو قرآن میں سب سے بڑھ کر بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ حَفْصًا سَمِعَ ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللی کم باہر جانے لگے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا اور معاذ ( بن ابی معاذ عنبری) نے یہ حدیث یوں نقل کی۔شعبہ نے : ٢) الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : ۲) ہمیں بتایا کہ خبیب بن عبد الرحمن سے روایت أَبَا سَعِيدٍ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَقَالَ هي السَّبْعُ الْمَثَانِي۔أطرافه: ٤٤٧٤ ، ٤٧٠٣، ٥٠٠٦ - ہے، انہوں نے حفص سے سنا، حفص نے حضرت ابوسعید سے ، جو نبی صلی الم کے صحابہ میں سے ایک شخص تھے یہ واقعہ سنا۔آپ نے فرمایا: وہ سورۃ الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ہے۔یعنی وہ سات آیتیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں۔