صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 334
صحیح البخاری جلد ۱۰ و ۳۳۴ باب ۶۵ - کتاب التفسير / الأنفال اِن شَرّ الرّ وَآبِ عِندَ اللهِ الصُّةُ البُكُمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (الأنفال: ٢٣) بد ترین جاندار اللہ کے نزدیک وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔٤٦٤٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۴۶۴۶ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ ورقاء بن عمر ) نے ہمیں بتایا، انہوں نے (عبد اللہ ) مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ إِنَّ شَرَ اللَّهَ وَآبِ بن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے عِنْدَ اللهِ الصُّم البكُمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ حضرت ابن عباس سے روایت کی، انہوں نے (الأنفال: ٢٣) قَالَ هُمْ نَفَرٌ مِّنْ بَنِي کہا : إِنَّ شَرَّ الدَّوَاتِ عِنْدَ اللهِ الصُّةُ البُكم الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ سے بنو عبد الدار کے کچھ عَبْدِ الدَّارِ۔لوگ مراد ہیں۔ريح : إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِ عِنْدَ اللهِ الصُّةُ الْبُكُمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ۔۔۔۔زیر باب حدیث سے عنوان کی تشریح ظاہر ہے۔باب ۲ ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَ أَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ) ج ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو، جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لیے پکارے اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے اور یہ کہ تم اسی کی طرف زندہ کر کے لوٹائے جاؤ گے (الأنفال: ٢٥) وو اسْتَجِيبُوا (الأنفال: (٢٥) : أَجِيبُوا لِمَا اسْتَجِيبُوا کے معنی ہیں قبول کرو۔لِمَا يُحْيِيكُمْ کے يُحييكم (الأنفال : ٢٥) لِمَا يُصْلِحُكُمْ۔معنی ہیں اس بات کی طرف جو تمہاری اصلاح کرے ٤٦٤٧: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۴۶۴۷: اسحاق نے مجھ سے بیان کیا: کہا، روح له ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یقیناً خدا کے نزدیک تمام جانداروں میں بد ترین وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل نہیں کرتے