صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 333 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 333

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۳۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الأنفال فِي أَفْوَاهِهِمْ وَتَصْدِيَةً (الأنفال: (٣٦) السّلْمُ، السلم اور السلام کے ایک ہی معنی الصَّفِيرُ لِيُثْبِتُوكَ (الأنفال: ۳۱) ہیں۔يُثْخن کے معنی ہیں: وہ غالب ہوتا ہے اور لِيَحْبِسُوكَ۔أطرافه ٤٠٢٩ ٤٨٨٢ ، ٤٨٨٣- تشریح مجاہد نے کہا: معاء کے معنی ہیں اپنی انگلیوں کو اپنے منہ میں رکھنا اور تضدِيَةٌ کے معنی ہیں سیٹی بجانا اور لینتون کے معنی ہیں تا تجھ کو قید کریں۔يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ۔۔۔۔اس باب کے تحت ایک ہی روایت ہے جس کا تعلق سورۃ الانفال کے نزول کی تاریخ سے ہے۔غزوہ بدر سے قبل، اس کے دوران اور ایک حصہ اس کے بعد نازل ہوا۔جیسا کہ اس سورۃ کی آیت سے واضح ہوتا ہے۔غزوہ بدر ۲ھ میں ہوا اور موجودہ ترتیب جبرائیلی تجلی سے قائم ہوئی ہے۔سابقہ سورۃ میں انبیاء علیہم السلام اور ان کے دشمنوں کے ساتھ سنت اللہ کا بیان ہے اور اس سورۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے ساتھ اسی قدیم سنت کے ظہور کا ذکر ہے۔روایت نمبر ۴۶۴۵ میں حضرت ابن عباس کی سند سے الشَّوْكَهُ ، مُردِفِينَ، ذُوقُوا يَرْكُمُ اور شَرِدُ کی تشریح اس سورۃ کے لئے بطور دیباچہ بیان ہوئی ہے۔الفاظ محولہ سے الہی نصرت اور دشمن کے انجام کی طرف توجہ منعطف کروائی گئی ہے اور وَاِن جَنَحُوا لِلسّلْم (الأنفال: ۶۲) سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارم اخلاق کا علم ہوتا ہے کہ آپ دنیا دار حاکموں کے انتقام سے پاک تھے اور اس میں یہ پیشگوئی بھی مضمر ہے کہ وہ وقت آئے گا جب کفار مکہ مصالحت کی طرف جھکیں گے۔لفظ یقین کی تشریح سے آپ کے غلبہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔معاء و تَصْدِيَةً کے معنی ہیں منہ میں انگلیاں ڈال کر سیٹی بجانا۔فرماتا ہے : وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ إِلَّا مكَاءً وَتَصْدِيَةً فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ (الأنفال: ۳۶) اور خانہ کعبہ کے پاس ان کی نماز سوائے سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے اور ہے کیا۔پس (اے بے دینو ) اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کو چکھو۔ليُثْبِتُوكَ كے معنی ہیں لِيَحْبِسُوك یعنی تا کہ تجھے قید کریں۔فرماتا ہے : وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَاللهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ ) (الأنفال : ۳۱) اور (اے رسول اس وقت کو یاد کر ) جبکہ کفار تیرے متعلق تدبیریں کر رہے تھے تاکہ تجھے (ایک جگہ) محصور کر دیں یا تجھ کو قتل کر دیں یا تجھ کو نکال دیں اور وہ بھی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیریں کر رہا تھا اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سے سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔اس آیت میں کفار کے اس منصوبے کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا باعث ہوا اور جس سے آپ کی غایت درجہ بے بسی اور کفار کے انتہائی ظلم پر آمادگی کا پتہ چلتا ہے اور اسی نسبت سے الہی نصرت کی عظمت ہویدا ہے۔رج وو ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ؟ اور اگر وہ صلح کے لئے جھک جائیں۔“