صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 332
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنفال - سُورَةُ الْأَنْفَالِ بَاب ۱ : قَوْلُهُ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُم۔(الأنفال : ٢) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) وہ تجھ سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں۔تم اللہ کو اپنا سپر بناؤ اور اپنی حالت کی اصلاح کرو۔قَالَ ابْنُ عَبَّاس: الْاَنْفَالُ حضرت ابن عباس نے کہا: الأنفال سے وہ مال (الأنفال: ٢) الْمَغَانِمُ۔قَالَ قَتَادَةُ مراد ہیں جو بغیر لڑائی یا محنت و مشقت حاصل ريحكم (الأنفال: ٤٧) الْحَرْبُ ہوں۔قتادہ نے کہا: (تَذْهَبَ رِيحُكُمْ میں) يُقَالُ نَافِلَةٌ عَطِيَّةٌ۔ريحكم سے مراد لڑائی ہے۔کہا جاتا ہے کہ نافلة کے معنی ہیں بخشش۔٤٦٤٥ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ :۳۶۴۵ محمد بن عبد الرحیم نے مجھے بتایا کہ سعید حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا هُشَيْم بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم بن بشیر ) أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ نے ہمیں خبر دی ابو بشر نے ہمیں بتایا۔اُنہوں قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔انہوں نے کہا: سُورَةُ الْأَنْفَالِ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے الشَّوْكَةُ الْحَدُّ مُردِفِينَ (الأنفال:١٠) سورة الانفال کی بابت پوچھا ( کہ کب نازل ہوئی) فَوْجًا بَعْدَ فَوْجٍ رَدَفَنِي وَ أَرْدَفَنِي تو اُنہوں نے کہا: غزوہ بدر میں نازل ہوئی۔جَاءَ بَعْدِي۔ذُوقُوا بَاشِرُوا وَجَرِّبُوا الشَّوْكَةُ کے معنی ہیں دھار دار۔مُردِ فین کے وَلَيْسَ هَذَا مِنْ ذَوْقِ الْقَمِ۔فَيَرُكُمَة معنی ہیں فوج در فوج۔رَدَفْنِی اور أَردَفْنِي کے (الأنفال: ۳۸) يَجْمَعَهُ شَرِدْ فَرِقْ معنی ہیں میرے پیچھے آئے۔ذُوقُوا کے معنی وَإِن جَنَحُوا (الأنفال : ٦٢) طَلَبُوا السّلْمُ ہیں بر اور است اس کا تجربہ کرو اور اس سے مراد وَالسَّلْمُ وَالسَّلَامُ وَاحِدٌ يُثْخِنَ منہ کا چکھنا نہیں۔فیر لما کے معنی ہیں: وہ (الأنفال: ٦٨) يَغْلِبَ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ اسے اکٹھا کرتا ہے۔شَرِدُ کے معنی ہیں پراگندہ معاء (الأنفال: (٣٦) إِدْخَالُ أَصَابِعِهِمْ کر دے۔وَ اِنْ جَنَحُوا کے معنی ہیں طلب کریں۔