صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 331 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 331

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف العفو کو خلق اور درگزر پر ہی محمول کیا ہے اور دوسرے معنوں پر اسے ترجیح دی ہے۔اس تعلق میں حضرت جعفر صادق کا پُر معرفت قول بھی مروی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اس سے بڑھ کر مکارم اخلاق کی جامع آیت اور کوئی نہیں۔اس ضمن میں اخلاق فاضلہ کی بلحاظ قوائے انسانیہ تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔قوائے عقلیہ ، قوائے شہوانیہ اور قوائے غضبیہ۔جن سے زندگی کے بقاو قیام میں دفاع کا کام لیا جاتا ہے۔اس آیت میں خُذِ الْعَفْو کا تعلق عقل سے ہے۔جو موقع و محل کی شناخت کرتی اور در گزر کا مشورہ دیتی ہے اور امر بالمعروف کا تعلق بھی عقل و حکمت سے ہے اور عفو کا تعلق عفت سے ہے اور یہ خُلق قوائے شہوانیہ کو ضبط اور حدود کے اندر رکھتی ہے اور قوت غضبیہ شجاعت کی متقاضی ہے اور اَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ کا تعلق بھی اسی خُلق سے ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۸۸) حضرت جعفر صادق کا یہ بصیرت افروز قول دراصل سیاق کلام ہی پر مبنی ہے۔محولہ بالا آیت کے بعد کی تین آیات (۲۰۱ تا ۲۰۳) بھی مکارم اخلاق ہی پر مشتمل ہیں، ان سے پہلے اور بعد کسی جگہ انفاق اموال کا ذکر نہیں۔مذکورہ بالا اختلاف روایات ہی کی وجہ سے امام بخاری نے مذکورہ بالا باب قائم کیا ہے۔