صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 330 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 330

صحیح البخاری جلد ۱۰ ٣٣٠ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف ٤٦٤٣ : حَدَّثَنِي يَحْيَى حَدَّثَنَا ۴۶۴۳ : يحي بن موسیٰ) نے مجھ سے بیان کیا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ کہ وکیع نے ہمیں بتایا: انہوں نے ہشام بن عروہ ) بْنِ الزُّبَيْرِ خُذِ الْعَفْوَ وَ امْرُ بِالْعُرْفِ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے (الأعراف: ۲۰۰) قَالَ مَا أَنْزَلَ اللهُ إِلَّا حضرت عبدا رت عبد اللہ بن زبیر بیر سے روایت کی، وایت کی، انہوں نے کہا: آیت خُذِ الْعَفْوَ وَامْرُ بِالْعُرْفِ جو ہے تو فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ۔ طرفه: ٤٦٤٤- اللہ تعالیٰ نے یہ صرف لوگوں کی اخلاقی اصلاح کے لئے ہی اتاری ہے۔ ٤٦٤٤ : وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ ۴۶۴۴ اور عبد اللہ بن بڑا د نے کہا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ هِشَامٌ عَنْ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام ( بن عروہ) نے بتایا، أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَمَرَ انہوں اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ عبد الله بن زبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ أَوْ الله نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ كَمَا قَالَ۔ طرفه: ٤٦٤٣- لوگوں کے سلوک پر عفو سے کام لیں یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے۔ تشريح : خُذِ الْعَفْوَ وَ أَمُرُ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجِهِدِينَ: الْحُرْف کے معنی معروف عروہ بن زبیر سے بسند عبد الرزاق مروی ہیں۔ طبری نے بھی بحوالہ سدگی و قتادہ نقل کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۸۷) معنونہ آیت نمبر ۲۰۰ سورۃ الاعراف کی ہے۔ ترجمہ : (اے نبی ! ہمیشہ ) در گزر سے کام لے اور مطابق فطرت باتوں کا حکم دیتارہ اور جاہل لوگوں سے ما لوگوں سے منہ پھیر لے ۔ لفظ الْعَفُو کے دو معنی مروی ہیں۔ ایک در گزر، جو عروہ بن زبیر سے مروی ہیں اور جسے مد نظر رکھ کر محولہ بالا آیت کا ترجمہ کیا گیا ہے اور جس کی تائید روایت زیر باب سے ظاہر ہے اور امام بخاری نے اسی تعلق میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں عفو من جملہ اخلاق وارد ہوا ہے۔ مجاہد کے نزدیک بھی یہی مفہوم ہے۔ جبکہ حضرت ابن عباس سے یہ منقول ہے کہ جو مال ضروریات زندگی سے زائد ہو وہ لوگوں سے لو ۔ خُذْ مَا عَفَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ - سیاق کلام سے ان معنوں کی تائید نہیں ہوتی۔ انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق بیسیوں جگہ احکام وارد ہیں۔ آیت متعلقہ کا سیاق و سباق اخلاق فاضلہ کا مقتضی ہے۔ تاویل آیات کی صحت وسقم کے جانچنے کا اصل معیار سیاق کلام ہی ہے۔ ابن جریر نے