صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 329 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 329

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۲۹ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ يَا ابْنَ أَخِي لَكَ اور ان کو مشورہ دینے والے ہوتے تھے، ادھیڑ وَجْهُ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ فَاسْتَأْذِنْ لِي عمر کے ہوں یا جوان۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے عَلَيْهِ قَالَ سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ قَالَ کہا: اے بھتیجے! اس امیر کے پاس تمہاری وجاہت ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَأْذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ ہے ، اس لئے میرے لئے ان کے پاس آنے کی فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ اجازت مانگو۔ محر بن قیس نے کہا: میں تمہارے هِيْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا لئے ان کے پاس آنے کی اجازت لے لوں گا۔ الْجَزْلَ وَلَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ حضرت ابن عباس کہتے تھے، چنانچہ لڑ نے عیدینہ فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ بِهِ فَقَالَ لَهُ کے لئے اجازت مانگی اور حضرت عمرؓ نے ان کو الْحُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللهَ تَعَالَى اجازت دی۔ جب عیینہ ان کے پاس آیا تو اس قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُنِ نے کہا: خطاب کے بیٹے ! یہ کیا بات ہے، اللہ کی الْعَفْوَ وَ أَمْرُ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ قسم نہ تو آپ ہم کو بہت (مال) دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان ( اور ہمارے مال کے درمیان) الجهلِينَ (الأعراف: ۲۰۰) وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ وَكَانَ وَفَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ۔ طرفه: ٧٢٨٦ - ورم انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ناراض ہو گئے۔ یہاں تک کہ اس کو کچھ کہنے کو ہی تھے کہ خڑ نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا: امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے: (اے نبی ! ہمیشہ ) در گزر سے کام لے اور مطابق فطرت باتوں کا حکم دیتا رہ اور جاہل لوگوں سے منہ پھیر لے۔ اور یہ عیینہ جاہلوں ہی میں سے ہے۔ اللہ کی قسم جب لڑنے ری ان کے سامنے یہ آیت پڑھی تو حضرت عمر و ہیں رک گئے اور کچھ نہیں کہا اور حضرت عمرؓ کتاب اللہ کو سن کر رک جاتے تھے۔