صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 328
۳۲۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف صحيح البخاری جلد ۱۰ (منہ سے) کہتے جاؤ ( کہ ہم) بوجھ ہلکا کرنے کی التجا ( کرتے ہیں) اور اس (سامنے والے شہر کے ) دروازہ میں فرمانبرداری کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔تب ہم تمہاری خطائیں تم کو معاف کر دیں گے اور پوری طرح فرمانبرداری کرنے والوں کو اور بھی انعام دیں گے۔روایت زیر باب سے مراد یہ نہیں کہ اُنہوں نے فی الواقعہ حِظَةٌ کی جگہ حِنْطَةٌ حِنْطَةٌ کہنا شروع کر دیا۔بلکہ اس کا یہ مفہوم ہے کہ انہوں نے احکام الہی کو مذاق بنا دیا اور فرمانبرداری ملحوظ نہیں رکھی۔اس نافرمانی اور بد عہدی کی وجہ سے جس کا ذکر آیت فَانْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجذَا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (البقرة : ٢٠) میں ہے۔وہ طاعون کے عذاب میں مبتلا ہوئے جس کا ذکر گفتی باب ۲۵ : ۸، ۹ میں ہے کہ چوبیس ہزار اسرائیکی وبا سے : مرے۔اس باب میں علاقہ مو آب اور شیطیم شہر کا ذکر ہے۔بابه خُذِ الْعَفْوَ وَامْرُ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ (الأعراف: ٢٠٠) جو ضرورت سے بڑھ کر ہو وہ لے اور بھلائی کا حکم کر اور جاہلوں سے اعراض کر الْعُرْفُ : الْمَعْرُوفُ۔غرف کے معنی ہیں معروف یعنی بھلائی۔٤٦٤٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا :۴۶۴۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ نے کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ خبر دی که حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بنِ حُذَيْفَةَ عيينة بن حصن بن حذیفہ (مدینہ میں) آئے اور فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِ بْنِ قَيْسِ اپنے بھتیجے حربن قیس کے پاس اترے اور خرابن وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ میں ان لوگوں میں سے تھے جن کو حضرت عمرؓ وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ اپنے قریب بٹھایا کرتے تھے اور قاری ( قرآن وَمُشَاوَرَتِهِ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا فَقَالَ کے عالم ہی حضرت عمر کی مجلس میں بیٹھنے والے ا ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع: پس ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے ایک عذاب نازل کیا بسبب اُس کے جو وہ نافرمانی کرتے تھے۔“