صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 327 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 327

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۲۷ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف تشريح : قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔۔۔۔ آیت مذکورہ بالا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عامۃ الناس کے بارے میں صراحت ہے۔ صرف عرب عيد ہی اس دعوت کے مخاطب نہ تھے اور حدیث زیر باب میں جہاں اس امر کی تائید ہوتی ہے وہاں حضرت ابو بکر کے مقام عرفان کا علم ہوتا ہے۔ شروع ہی سے آپ کی نظر ثاقب نے حقیقت کو دیکھ لیا جبکہ تائید الہی کی شہادتوں میں سے ایک بھی شہادت نہ تھی اس کا ذکر کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب ۵ میں گذر چکا ہے۔ بَاب ٤ : وَقُولُوا حِظَةٌ (الأعراف : ١٦٢) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم یہ دعا کرنا کہ ہمارے گناہ معاف ہوں ٤٦٤١ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۶۴۱: اسحق ( بن ابراہیم حنظلی ابن راہویہ ) نے عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ مجھ سے بیان کیا کہ عبد الرزاق نے ہمیں خبر دی۔ الله معمر نے ہمیں بتایا : ہمام بن منبہ سے روایت ہے۔ رضي عنه بْنِ مُنَبِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ هِ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قِيلَ وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَ بَنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ دروازے سے قُولُوا حِطَّةٌ تَغْفِرُ لَكُمْ خَطِيكُمُ (البقرة: ٥٩) فرمانبردار ہو کر داخل ہونا اور یہ دعا کرتے رہنا، فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا يَرْحَفُونَ عَلَى ہمارے گناہ معاف ہوں، ہم تمہاری غلطیوں پر أسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ۔ پردہ پوشی کر کے تم سے در گزر کریں گے، تو انہوں نے ( اس حکم کو بدل ڈالا اور اپنے کولہوں کے بل گھسٹتے اور رینگتے ہوئے داخل ہوئے اور أطرافه: ٣٤٠٣ ، ٤٤٧٩ تشريح : قُولُوا حِة ۔۔۔ اُنہوں نے بجائے حِطَّةٌ کے ) حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ کہا۔ یعنی بالی میں دانے ہمیں ملیں۔ ۔۔۔۔ سورة البقرہ آیت نمبر ۵۹ میں گناہوں کی معافی مانگنے کا ذکر ہے اور سورة الأعراف میں بھی اس کا ذکر ان الف کر ان الفاظ میں ہے : وَاذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِظَةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا تَغْفِرُ لَكُمْ خَطِيتِكُمْ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ (الأعراف: ۱۶۲) اور (یاد کرو) جب ان (یعنی بنی اسرائیل) سے کہا گیا کہ اس علاقہ میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ اور