صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 12 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 12

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۳ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُوْدُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ۔مانگو تمہیں دیا جائے گا اور أَعُوْدُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ کہو تمہاری سنی جائے گی اور سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔تب میں اپنا سر اُٹھاؤں گا اور میں خلِدِينَ فِيهَا (البقرة: ١٦٣) (هود: ١٠٨) إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَوَجَبَ عَلَيْهِ اُس کی وہ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا اور الْخُلُوْدُ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ اس کے بعد میں سفارش کروں گا اور وہ میرے لئے حَبَسَهُ الْقُرْآنُ يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: حد مقرر کرے گا اور میں (اس حد کے اندر اندر) لوگوں کو جنت میں داخل کروں گا۔پھر میں اس کی طرف دوبارہ جاؤں گا اور جب اپنے رب کو دیکھوں گا تو اسی طرح سجدہ میں گر پڑوں گا۔) اس کے بعد میں سفارش کروں گا تو وہ میرے لیے حد مقرر کر دے گا اور میں ( اس حد کے اندر اندر ) لوگوں کو جنت میں داخل کروں گا۔پھر تیسری دفعہ اور چوتھی دفعہ اس کے پاس واپس جاؤں گا اور میں کہوں گا: اب آگ میں وہی باقی ہیں جن کے رہنے کی بابت قرآن نے کہا ہے اور جن کا دیر تک رہنا ضروری ہے۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: إِلَّا مَن حَبَسَهُ الْقُرْآنُ سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول مراد ہے : وہ اس میں لمبے عرصے تک رہیں گے۔أطرافه: ٤٤، ٦٥٦٥ ، ٧٤١٠، ۷٤٤٠، ۷۵۰۹، ٧٥۱۰، ٧٥١٦۔تشریح: م و الله و علم ادم الاسماء كلها: سورۃ بقرہ سے متعلق روایات باب ۵۵ تک مذکور ہیں۔اس باب میں حضرت آدم علیہ السلام کے تعلق میں جن کی خلافت کا ذکر رکوع نمبر ۴ میں ہے، مذکورہ بالا روایت نقل کر کے باب کا عنوان آیت وَعَلَمَ آدَمَ الْإِسْمَاء كُلَهَا (البقرة: ۳۲) قائم کیا گیا ہے کہ آدم کو تمام نام سکھائے۔شارحین کے سامنے دو سوال ہیں۔ایک یہ کہ کیا نام سکھائے ، اشیاء کے نام یا اسماء الہی ؟ اس کے جواب میں رائے کا اختلاف ہے۔کسی نے ذریت کے نام اور کسی نے ملائکہ کے نام کہا۔بعض کے نزدیک ہر شے کا نام جو زمین میں ہے ، حضرت آدم علیہ السلام کو بتایا گیا اور بعض نے کہا کہ اسماء اجناس سکھائے گئے ، انواع کے نام نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه (۲۰) اگر دو باتیں مدنظر رکھی جائیں تو تعلیم اسماء سے متعلق سوال کا جواب آسان ہو جاتا ہے۔ایک حضرت آدم علیہ السلام کی حیثیت کہ وہ انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ہیں اور انبیاء کو باقی لوگوں سے اس بات میں امتیاز حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسماء الہی کی معرفت عطا کئے جاتے ہیں اور دوسروں کے لئے معلم ربانی ہوتے ہیں اور اسماء الہی کی