صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 326 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 326

صحيح البخاری جلد ۱ ۱۰ سم ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف مُغْضَبًا فَاتَّبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ يَسْأَلُهُ أَنْ حضرت عمر حضرت ابو بکر سے ناراض ہو کر چلے يَسْتَغْفِرَ لَهُ فَلَمْ يَفْعَلْ حَتَّى أَغْلَقَ گئے۔حضرت ابو بکر ان کے پیچھے گئے تا ان سے بَابَهُ فِي وَجْهِهِ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرِ إِلَى کہیں کہ ان کے لئے استغفار کریں۔حضرت عمر رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نہ مانا اور دروازہ بند کر لیا کہ اندر نہ آئیں۔فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ اس پر حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا آئے۔حضرت ابو درداء کہتے تھے اور اس وقت صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ قَالَ وَنَدِمَ ہم آپ کے پاس تھے۔رسول اللہ صلی ا ہم نے (حضرت ابوبکر کو دیکھ کر) فرمایا کہ یہ جو تمہارے عُمَرُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ فَأَقْبَلَ سَلَّمَ وَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَصَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ ساتھی ہیں (یعنی ابو بکر) یہ بھلائی میں تم سب سے سبقت لے گئے ہیں۔(حضرت ابو در دائر) کہتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَبَرَ قَالَ تھے اور حضرت عمرؓ بھی اپنے اس فعل پر شرمندہ ہوئے جو اُن سے ہوا، وہ بھی آگئے السلام علیکم کہا اور نبی صلی ایم کے پاس بیٹھ گئے۔رسول اللہ صلی الیوم سے سارا واقعہ بیان کیا۔حضرت ابو دردا - أَبُو الدَّرْدَاءِ وَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَقُولُ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَأَنَا كُنْتُ تھے : رسول اللہ صلی ا یکم ناراض ہو گئے اور حضرت أَظْلَمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ابو بکر" کہنے لگے: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں ہی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي زیادتی کرنے والا تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي صَاحِبِي إِنِّي قُلْتُ کیا تم میرا رفیق (غار) میرے لئے رہنے دو گے؟ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ کیا تم میرا رفیق میرے لئے رہنے دو گے ؟ میں نے جَمِيعًا فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ کہا: اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول صَدَقْتَ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ غَامَرَ ہوں۔تم نے کہا: تو کاذب ہے اور ابوبکر نے کہا: تو صادق ہے۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: عامر کا لفظ جو اس حدیث میں آیا ہے اس کے معنی ہیں وہ بھلائی میں جو سبقت لے گیا۔سَبَقَ بِالْخَيْرِ۔طرفه: ٣٦٦١ -