صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 325 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 325

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۲۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف رض الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِ وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ حضرت عمرو نے حضرت سعید بن زید سے، أطرافه : ٤٤٧٨ ٥٧٠٨ حضرت سعید نے نبی صلی الم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: کھبی من ہی کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آشوب چشم کا علاج ہے۔المَن والسلوى : بغیر باب قائم کئے روایت نمبر ۴۶۳۹ نقل کی گئی ہے۔الْمَنَ وَالسَلوی کی وضاحت تفسير سورة البقرة، باب ۴ کے تحت گذر چکی ہے۔شفاء العین یعنی آنکھ کی تکلیف کا علاج ہے۔محذوف کو مد نظر رکھ کر آشوب چشم ترجمہ کیا گیا ہے۔کتاب الطب میں بھی اس کا ذکر ہے۔بَاب : قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعَا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الاقى الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللهِ وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اللہ تعالی کا فرمانا :) کہو (کہ) اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔وہ جس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین میں ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہی۔وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔اس لئے تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، جو نبی ہے آتی ہے جو اللہ اور اس کے کلام پر ایمان لاتا ہے اور تم اس کی پیروی کرو تا تم ہدایت پاؤ (الأعراف: ۱۵۹) ٤٦٤٠: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا ۴۶۴۰: عبد اللہ بن حماد آملی) نے مجھ سے بیان سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُوسَى بْنُ کیا کہ سلیمان بن عبد الرحمن (دمشقی) اور موسیٰ هَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ بن ہارون نے ہمیں بتایا، ان دونوں نے کہا: ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا، کہ عبد اللہ بن علاء حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ بن زبر نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: بُسر بن عبید اللہ نے مجھ سے بیان کیا کہا: ابو اور میں خولانی حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ كَانَتْ بَيْنَ ابو دردا سے سناوہ کہتے تھے: حضرت ابو بکر اور أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مُحَاوَرَةٌ فَأَغْضَبَ حضرت عمر کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی۔جس أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ فَانْصَرَفَ عَنْهُ عُمَرُ سے حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو ناراض کر دیا۔