صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 324 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 324

صحیح البخاری جلد ۱۰ لام سلام ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف مروی ہے کہ رؤیت کی خواہش کلام الہی کو سن کر پیدا ہوئی۔ جس کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ کلام سننے پر کلام کرنے والے کو دیکھنے کی خواہش ایک طبعی امر ہے جس کا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اظہار کیا ہے اور جس قسم کے دیدار کی خواہش کی گئی ہے اس کا جواب کن ترینی سے ظاہر ہے۔ وہ اس دنیا میں ان جسمانی آنکھوں سے ممکن نہیں، لیکن آخرت میں وہاں کی بصیرت سے ممکن ہے۔ جیسا کہ امام بخاری نے کتاب التوحید میں اس امکان کو بحوالہ آیت وجوه يوميد يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ة (القيامة )) امة: : ۲۴) ۲۳، سے ثابت کیا کیا ہے۔ ہے۔ اس دن بعض چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہوں گے ۔ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے ۔ معتزلہ نے حرف لا اور لن کی بحث اٹھا کر رویت کے عدم امکان کا عقیدہ بنالیا ہے ، جو اہل سنت کو تسلیم نہیں۔ کیونکہ رؤیت کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۸۳، ۳۸۴) یہی مشہور اختلاف مد نظر رکھتے ہوئے سورۃ الاعراف کی آیت ۱۴۴ سے الگ عنوان قائم کیا ہے اور اس تعلق میں صرف ایک روایت نقل کی ہے۔ جس میں طوری تجلی اور اور حضرت حصہ موسیٰ السلام کی عشی کا ذکر ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ انہی تجلی ہمارے قوائے جسمانیہ کے لئے اس دنیا میں نا قابل برداشت ہے۔ لیکن باوجود اس امر واقعہ کے اس امر میں اختلاف نہیں ہو سکتا کہ رؤیت عین اور رؤیت قلب اور رؤیت عقل میں فرق ہے اور ان کے علاوہ رؤیت خواب، رؤیت مکاشفہ و ہیجو دیگر اور بھی رویہ و ہمچو دیگر اور بھی رؤیتیں ہیں۔ صرف ایک ہی قسم کی رؤیت کا سوال اٹھا کر فضول بحثوں میں پڑنا مناسب نہیں۔ لَا تُخَيَّرُونِي مِنْ بَيْنِ الأَنْبِيَاءِ : روایت نمبر ۴۶۳۸ میں ایک مسلم اور یہودی کے مذہبی تعصب کے جھگڑے کا بیان ہے جس کی بناء پر ایک دوسرے سے گالی گلوچ ہوئی۔ اول الذکر نے طیش میں آکر دوسرے کو طمانچہ مارا۔ جس پر آنحضرت صلی علیم نے ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کی فضیلت ایک دوسرے پر ایسے طور پر نہ کرو کہ اُن میں سے کسی کی ہتک کا شبہ ہو اور ماننے والوں کے جذبات کو ٹھیس لگے۔ اہلِ مذاہب کی بڑی بیماری اُن کا یہی مذہبی تعصب ہے جس نے اُن کو ایک دوسرے کا گریباں گیر ہی نہیں بلکہ گلو گیر بنا رکھا ہے۔ اسلام نے تمام ادیان کے ہادیوں اور مذہبی پیشواؤں کا ادب و احترام لازمی قرار دے کر بہت سے جھگڑوں کی جڑ پر تبر رکھ دیا ہے۔ شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے حدیث مذکورہ بالا میں یہی سبق متبعین کو سکھایا ہے۔ الْمَنَّ وَالسَّلوى (الأعراف: ١٦١) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) من اور سلویٰ ٤٦٣٩ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۴۶۳۹: مسلم ( بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے عبد الملک (بن عمیر) عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ اللَّهِ قَالَ سے ، عبد الملک نے حضرت عمرو بن حریث سے،