صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 323
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى سفیان نے ہمیں بتایا، انہوں نے عمرو بن یحی مازنی الْمَازِنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سے ، عمرو نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے الْخُدْرِيَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ حضرت ابوسعید خدری ﷺ سے روایت کی۔رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اُنہوں نے کہا: یہود میں سے ایک شخص نبی علی الیم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ وَقَالَ يَا کے پاس آیا، جس کے منہ پر تھپڑ مارا گیا تھا وہ کہنے مُحَمَّدُ إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ لا: یا محمد ! آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص الْأَنْصَارِ لَطَمَ وَجْهِي قَالَ ادْعُوهُ نے جو انصار میں سے ہے میرے منہ پر تھپڑ مارا فَدَعَوْهُ قَالَ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ قَالَ يَا ہے۔آپ نے فرمایا: اس کو بلاؤ۔چنانچہ اس کو رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ فَسَمِعْتُهُ بلالائے۔آپ نے پوچھا: تم نے اس کے منہ پر يَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى کیوں طمانچہ مارا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! الْبَشَرِ فَقُلْتُ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَأَخَذَتْنِي میں یہودیوں کے پاس سے گزرا تو میں نے اس غَضْبَةٌ فَلَطَمْتُهُ قَالَ لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ شخص کو کہتے سنا: اس ذات کی قسم ہے جس نے بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ موسیٰ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چن لیا۔میں نے يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ کہا: کیا محمد علی لی نام سے بھی اور مجھے غصہ آیا تو میں فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ نے اس کو طمانچہ مارا۔آپ نے فرمایا: انبیاء میں قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي سے مجھے سب سے بہتر نہ کہو۔کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ ہیں جو عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔میں نہیں جانتا آیا وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا طور کی بے ہوشی ہی ان کے أَمْ جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ۔لئے کافی سمجھی گئی۔أطرافه : ۲٤۱۲، ۳۳۹۸، ٦٩١٦ ، ٦٩١٧ ، ٧٤٢٧ ريح : وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ۔۔۔۔اس آیت میں آرمی کے معنی أَعْطِنِي حضرت ابن عباس سے ابن جریر نے نقل کئے ہیں۔ان معنوں میں بظاہر تکلف ہے اور بسند سدی