صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 323 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 323

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى سفیان نے ہمیں بتایا، انہوں نے عمرو بن یحی مازنی الْمَازِنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سے ، عمرو نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ الله رضی عنہ حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی۔ الرسا رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اُنہوں نے کہا: یہود میں سے ایک شخص نبی صلی الیم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ وَقَالَ يَا کے پاس آیا، جس کے منہ پر تھپڑ مارا گیا تھا وہ کہنے مُحَمَّدُ إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ لا: يا محمد ! آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص الْأَنْصَارِ لَطَمَ وَجْهِي قَالَ ادْعُوهُ نے جو انصار میں سے ہے میرے منہ پر تھپڑ مارا فَدَعَوْهُ قَالَ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ قَالَ يَا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو بلاؤ۔ چنانچہ اس کو رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ فَسَمِعْتُهُ بلا لائے۔ آپ نے پوچھا: تم نے اس کے منہ پر يَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى کیوں طمانچہ مارا ہے ؟ اس نے کہا: یا رسول الله ! الْبَشَرِ فَقُلْتُ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَأَخَذَتْنِي میں یہودیوں کے پاس سے گزرا تو میں نے اس غَضْبَةٌ فَلَطَمْتُهُ قَالَ لَا تُخَبِّرُونِي مِنْ شخص کو کہتے سنا: اس ذات کی قسم ہے جس نے بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ موسیٰ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چن لیا۔ میں۔ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ کہا: کیا محمد صلی الم سے بھی اور مجھے غصہ آیا تو میں فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِّنْ میں نے نے اس کو طمانچہ مارا۔ آپؐ نے فرمایا: انبیاء میں قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي سے مجھے سب سے بہتر نہ کہو۔ کیونکہ قیامت کے أَمْ جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ۔ دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو ہوش میں آئے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ ہیں جو عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا آیا وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا طور کی بے ہوشی ہی ان کے لئے کافی سمجھی گئی۔ أطرافه : ٢٤١٢ ، ۳۳۹٨ ، ٦٩١٦ ، ٦٩١٧ ، ٧٤٢٧ تشريح : وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَ كَلَّمَهُ رَبُّه ۔۔۔: اس آیت میں آرٹی کے معنی أَعْطِنِي حضرت ابن عبا عباس سے ابن جریر نے ن جریر نے نقل کئے ہیں۔ ان معنوں میں بظاہر تکلف ہے اور بسند سدی