صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 322 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 322

۳۲۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف صحيح البخاری جلد ۱۰ و ايتاى ذِي الْقُرْبى وَيَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْي (النحل: 91) لے اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۳، زیر عنوان ایصال خیر کے اقسام۔مذکورہ بالا آیت کے علاوہ بیسیوں آیتیں ہیں جن میں فواحش کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔جس میں بڑی وسعت ہے۔اس لئے امام بخاری ہی کی رائے درست ہے جسے ایک مستند روایت سے تائید حاصل ہے۔اسلامی تعلیم میں زنا مطلق حرام ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں وہ صورت حال پیدا نہیں ہوئی جو عیسائی متمدن ممالک میں ہے۔زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں موجودہ نا گفتہ بہ حالت ہمارے ملک میں، غیر اسلامی اور عیسائی تمدن کی آزادی اور بے راہ روی کا نتیجہ ہے۔جس سے اسلامی معاشرہ جس قدر پاک و صاف ہونا چاہیے اسی قدر اس کے احیاء ثانی کی امید ہے اور یہ فرض سرپرستان حکومت و حساس علماء و با شعور طبقہ پر عائد ہوتا ہے۔مدارس کی بنیاد بھی قابل اصلاح و توجہ ہے۔باب ۲ : وَ لَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا ط اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ موقع پر آیا وَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ آرِى اَنْظُرْ اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا۔تو اس إِلَيْكَ قَالَ لَن تَرينى وَلَكِنِ انظُرُ إِلَی نے کہا: اے میرے رب ! مجھے دکھلا کہ میں تجھے الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ دیکھوں۔(اس کے رب نے) کہا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا۔مگر اس پہاڑ کو دیکھ اگر یہ اپنی جگہ تراينى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ ٹھہرا رہا تو پھر تو مجھے بھی عنقریب دیکھ لے گا۔دعا و خَرّ مُوسى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ جب اس کے رب نے پہاڑ پر بجلی کی تو اس جلوہ سبحنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا اوَلُ الْمُؤْمِنِينَ نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور موسیٰ بے ہوش (الأعراف: ١٤٤) ہو کر گر پڑے۔جب انہوں نے ہوش سنبھالی تو انہوں نے کہا: پاک ذات ہے تو۔میں نے تیری طرف رجوع کیا۔ایمان لانے والوں میں سے میں پہلے ماننے والا ہوں۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَرِي : أَعْطِنِي۔حضرت ابن عباس نے کہا: آرتی کے معنی ہیں مجھے وہ قابلیت دے (کہ میں تجھے دیکھ سکوں۔) ٤٦٣٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۴۶۳۸ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ 21 ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔“