صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 321 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 321

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عمرو نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت الله رضي قَالَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَبْدِ اللهِ عبد الله بن مسعود) ﷺ سے روایت کی کہ قَالَ نَعَمْ وَرَفَعَهُ قَالَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرُ مِنَ (عمرو بن مرہ) نے کہا: میں نے (ابو وائل سے ) اللَّهِ فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث حضرت عبداللہ (بن مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مسعود) سے سنی ہے ؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ اور الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ فَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ (کہا:) انہوں نے اس سند کو مرفوعاً بیان کیا تھا۔ آنحضرت صلی الم نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں اس لئے اس نے تمام بدیوں کو حرام کر دیا وہ بھی جو اُن میں سے ظاہر ہوں اور وہ بھی جو پوشیدہ ہوں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح زیادہ پسند نہیں اسی لئے اس نے خود اپنی تعریف کی۔ أطرافه : ٤٦٣٤، ٥٢٢٠ ، ٧٤٠٣۔ تشريح : قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ: یہ آیت نمبر ۳۴ سورة الأعراف کی ہے۔ لفظ الفواحش کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ جس کی وجہ سے الگ عنوان قائم کر کے ایک مستند روایت سے جو مرفوع ہے اسے واضح کیا گیا ہے۔ بعض نے ہر مکروہ و نا پسندیدہ بات فاحشہ شمار کی ہے۔ لفظ فحش نمایاں ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ فحش ایسی بات کو کہتے ہیں جس کی برائی سننے ، دیکھنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہو اور اس کے مقابل میں ( ما بطن) پوشیدہ برائی ہے۔ جس میں زنا سے لے کر ہر عیب و نقص شامل ہے ۔ بعض نے حضرت ابن عباس کے ایک قول کی بناء پر الفَوَاحِشَ کو زنا پر محمول کیا ہے۔ ان سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں زنا اگر اعلانیہ کیا جاتا تو برا مانا جاتا تھا اور اگر پوشیدگی میں ہوتا تو برا نہ مانتے تھے۔ اس لئے آیت میں زنا دونوں طریق پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ روایت کمزور ہے اور پہلا مفہوم ہی درست ہے، جس کی تائید روایت زیر باب سے ہوتی ہے۔ فتح الباری جزء ۸ صفحه (۳۸۳) پوری آیت یہ ہے : قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ أَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (الأعراف: ۳۴) تو کہہ دے میرے رب نے صرف برے اعمال کو خواہ وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے اور گناہ کو اور بغیر حق کے سرکشی کو حرام کیا ہے اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسے وجود کو جس کے لئے اس (اللہ ) نے کوئی دلیل نہیں اتاری شریک قرار دو، اور اس بات کو بھی حرام قرار دیا ہے) کہ تم اللہ پر ایسے جھوٹے الزام لگاؤ، جن کو تم جانتے نہیں۔ یاد رہے کہ قرآن مجید میں صرف اجمالی تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کی تفصیلات بھی بیان ہوئی ہیں۔ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَن یعنی کھلی کھلی بدیاں اور دقیق سے دقیق بھی۔ مثلاً فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ