صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 320 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 320

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۲۰ ۶۵ - کتاب التفسير / الأعراف چاہے تو اللہ کی پناہ لو۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۸۲) پوری آیت یہ ہے: وَ إِمَا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَنِ نَزْعُ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (الأعراف: (۲۰۱) اور اگر شیطان کی طرف سے تجھ کو کوئی صدمہ پہنچے تو تو اللہ سے پناہ مانگ جو بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔ ۳۹- طَيْفٌ مُلِمٌ بِهِ لَمَم یعنی کوئی خیال محسوس ہو۔ طائف بھی اسی مفہوم میں ہے جو ابو عبیدہ سے منقول ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۸۲) فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَشَهُمْ طَبِفٌ مِنَ الشَّيْطَنِ تَذَكَّرُوا فَإِذَاهُمُ مُبْصِرُونَ ( الأعراف: (۲۰۲) یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس وقت تقویٰ اختیار کیا جب اُن کو شیطان کی طرف سے آنے والا کوئی خیال محسوس ہوا اور وہ ہوشیار ہو گئے اور ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ ( وہ ہدایت پا جاتے ہیں۔) ۴۰ - یبدونهم : اگلی آیت میں فرماتا ہے : وَ إِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِّ ( الأعراف: ۲۰۳) اور کافروں يَمدُّونَهُمْ : کے بھائی انہیں گمراہی کی طرف کھینچتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے اس کی شرح یہ بیان کی ہے کہ کفر و کج روی کو اُن کے لئے خوبصورت کرتے اور سرکشی و بغاوت پر دلیر کرتے ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۸۲) یہاں بھائی سے مراد ہے گمراہ کن ساتھی ۴۱- خِيفَةً یعنی خوف سے ، اور یہ لفظ اخفاء سے بھی ہے۔ یعنی پوشیدگی میں اور آصال کی مفرد اصیل ہے۔ یعنی وہ اوقات جو عصر سے مغرب کے درمیان ہیں۔ غُدُو اوقات صبح بُكْرَةً بھی انہی معنوں میں ہے۔ یہ شرح بھی ابو عبیدہ ہی سے منقول ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۸۲) مذکورہ بالا الفاظ سورة الأعراف کی آخری آیات میں آئے ہیں۔ فرماتا ہے: وَاذْكُرُ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَ خِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُةِ وَالْأَصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَفِلِينَ ) إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيْ وَ يُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ (آیت ۲۰۶، ۲۰۷) اور (اے نبی) تو اپنے نفس میں اپنے رب کو عجز اور خوف کے ساتھ یاد کرتے رہا کر اور دھیمی آواز سے صبح بھی اور شام بھی ( ایسا کیا کر) اور بھی غفلت کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔ جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں یقیناً اپنے رب کی ء رب کی عبادت سے اپنے آپ کو بڑا ، آپ کو بڑا نہیں سمجھتے اور اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کے سامنے سجدے کرتے رہتے ہیں۔ مذکورہ بالا الفاظ کی شرح نقل کرنے کے بعد چار ابواب قائم کئے گئے ہیں، جو حسب ذیل ہیں اور یہ حوالے سورۃ الاعراف کے مضمون پر مشتمل ہیں۔ بَاب ۱ : إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الأعراف: ٣٤) میرے رب نے صرف بدیاں ہی حرام کی ہیں وہ جو اُن میں سے ظاہر ہوں اور وہ بھی جو اُن میں سے پوشیدہ ہوں ٤٦٣٧ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۶۳۷: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، انہوں نے عمرو بن مرہ سے،