صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 319 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 319

صحیح البخاری جلد ۱۰ ٣١٩ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف اس سے پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص شخص کے واقعہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر آیت ۱۷۷ سے ظاہر ہے کہ واقعہ مشار الیہ بطور مثال بیان ہوا ہے جو کوئی بھی ایسا کرے گا اس کا مصداق ہو گا۔قتادہ سے یہی مروی ہے۔قرآن مجید میں بالعموم اشخاص کا نام مذکور نہیں ہوتا۔سوائے فرعون، ھامان، قارون کے جو تاریخ عالم میں شہرت یافتہ ہیں۔بعض مفسرین نے بلعم بصور مراد لی ہے۔جس کا ذکر عہد قدیم کی کتاب گنتی باب ۲۲ تا ۲۴ میں ہے۔مگر قرآن مجید میں اس شخص کا کہیں نام نہیں اور مذکورہ مثال ہر مذکورۃ الصفات شخص پر چسپاں ہو سکتی ہے۔قرآن مجید میں ابو جہل و عبد اللہ بن اُبی کا نام بھی نہیں لیا گیا۔ووو ووو ۳۴- سَنَستَد رجُھم کے معنی ہیں نَأْتِيهِمْ مِنْ مَّامَنعهم یعنی ان کی امن گاہ میں آکر انہیں وہاں سے رفته رفتہ نکال دیں گے۔اللہ تعالیٰ کا یہ قول اس قول کے مفہوم میں ہے: فَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا (الحشر:٣) اللہ اُن کے پاس ادھر سے آیا جدھر سے اُن کو گمان تک نہ تھا۔سَنَستَد رجھم کا بھی یہی مفہوم ہے۔فرماتا ہے: وَالَّذِينَ كَذَبُوا بِالتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَعْلَمُونَ (الأعراف: ۱۸۳) اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے راستوں سے جن کو وہ جانتے نہیں ( ہلاکت کی طرف کھینچتے لائیں گے۔وَ أَمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتين (الأعراف: ۱۸۴) اور میں انہیں (سردست ) ڈھیل دے رہا ہوں، میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔۳۵- من جنَّةِ : کے معنی ہیں جنون۔آیت ۱۸۵ میں فرماتا ہے: أَو لَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلا نَذِير مبين (الأعراف: ۱۸۵) کیا انہوں نے سوچا نہیں کہ اُن کے ساتھی (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عارضہ جنون قطعا نہیں۔وہ تو صرف کھلے طور پر خطرے سے آگاہ کرنے والا ہے۔۳۶ اَيَّانَ مُرسهَا : اس کا ظہور کب ہو گا ؟ مُرسها ( الأعراف آیت نمبر (۱۸۸) کا معنی خُرُوجُهَا ابو عبیدہ سے منقول ہے اور حضرت ابن عباس سے مُمنتَهَاهَا اور قتادہ سے قیامها مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ (۳۸) مؤخر الذکر دونوں معنی صحت کے زیادہ قریب ہیں۔یعنی اس گھڑی کا انجام یا قیام کب ہو گا؟ ۳۷- فَمرت به : اس فقرہ میں بہ کی ضمیر حمل کی طرف ہے اور اس کا مفہوم اسْتَمَرُ بِهَا الحَمْلُ فَأَتَقَتُهُ ہے یعنی حمل کی حالت ( کچھ مدت) اسی طرح رہی کہ حاملہ نے چلتے پھرتے اس کی مدت پوری کی۔سیاق کلام اللہ کے لئے دیکھئے سورۃ الاعراف : ۱۹۰ تا ۱۹۷۔ان آیات میں مشرکین مخاطب ہیں نہ کہ آدم و حوا علیہا السلام، سورۃ الاعراف میں جن کا مفصل ذکر کرنے کے بعد متعدد انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے کہ ان میں سے ہر نبی نے لقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُة (الأعراف: ۲۰) کے الفاظ سے مخاطب فرمایا اور یاد رکھنا چاہیے کہ انہی لوگوں کو یہ خطاب ہے جن کو پہلے خطاب تھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔آخری الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ذکر اُن تمام مشرکین عرب کا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب ہیں نہ کسی ایسے دو اشخاص کا جن کے ساتھ کوئی تیسرا انسان نہ تھا۔یعنی ( آدم و حوا) جس کی وجہ سے جمع کا صیغہ یشرکون کی ضرورت پڑی۔۳۸ - يَنْزَغَنَّكَ کے معنی ہیں يَسْتَخِفَنَّكَ یعنی تجھے طیش میں لانا چاہے۔ابو عبیدہ سے یہ مفہوم مروی ہے اور انہی سے نَزَعَ الشَّيْطَانُ کے معنی أَفْسَدَ بَيْنَهُمُ منقول ہیں۔یعنی اگر شیطان تمہارے درمیان فساد ڈالنا ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں۔“