صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 318
۳۱۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الأعراف صحيح البخاری جلد ۱ ۱۰ آیت نمبر ۱۶۴ میں ہے۔فرماتا ہے: وَسَلَهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تأتِيهِمْ حِيتَانَهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَعًا وَ يَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ترجمہ : اور (اے رسول) ان (بنی اسرائیل) سے اس بستی کے متعلق پوچھ جو سمندر کے کنارہ پر تھی۔جبکہ وہ (یہود) سبت کے حکم میں زیادتی سے کام لیتے تھے۔جبکہ ان کی مچھلیاں ان کے سبت کے دن گروہ در گروہ آتی تھیں اور جس دن وہ سبت نہیں کرتے تھے نہیں آتی تھیں۔اسی طرح ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کا امتحان لیتے تھے۔اس آیت میں جس بستی کو حاضِرَةَ الْبَحْرِ (سمندر کے کنارے آباد مرکزی شہر ) بتایا گیا ہے۔وہ بعض کے نزدیک اسکندریہ ہے۔وہاں یہود نے احکام الہی کو پس پشت ڈال دیا تھا اور ان کی اخلاقی حالت رومی سلطنت کے تحت بہت پست ہو چکی تھی۔وہ رومیوں کے طور و طریق اور تمدن کے نقال تھے۔گذلك الگ ہے اور واقعہ مذکورہ سے بطور استدلال ایک اہم نتیجہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ احکام سبت ملحوظ رکھنے کے وقت مچھلیاں سطح سمندر پر سر اُٹھائے ہوئے پوری آزادی سے تیرتی تھیں۔بادبان بھی شرائع کہلاتا ہے۔کیونکہ وہ بلند ہوتا ہے۔اسی طرح جب قوم احکام الہی کی نگہداشت رکھتی ہے تو وہ آزادی کا سانس لیتی ہے اور قوموں میں ان کا سر بلند ہوتا ہے اور جب وہ انہیں نظر انداز کرتی ہیں اپنی آزادی کھو بیٹھتی ہیں اور پستی میں چلی جاتی ہیں نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ۔ہم انہیں بد عہدی کی وجہ سے مبتلائے آلام و مصائب کر دیتے ہیں۔لفظ شرعا اور جملہ معترضہ گذرلك سے اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔گذلك دراصل پورا جملہ ہے۔یعنی یہی حال اس قوم کا ہوتا ہے جو احکام شریعت کی حرمت مد نظر نہیں رکھتی۔۳۲۳- بیس کے معنی ہیں شَدِید یعنی نہایت تکلیف دہ عذاب۔فرماتا ہے: فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابِ بَبِيْسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الأعراف: ١٦٦) پس جب ان لوگوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے اُن لوگوں کو جو بُری باتوں سے روکتے تھے نجات دے دی اور جو لوگ ظالم تھے انہیں ایک نہایت تکلیف دہ عذاب میں مبتلا کر دیا۔کیونکہ وہ اطاعت سے نکل رہے تھے۔۳۳ - أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ کے معنی ہیں قَعَدَ وَتَقَاعَسَ یعنی بیٹھ گیا اور پیچھے ہٹ گیا۔فرماتا ہے: وَ کوشتنا تَرَفَعُتُهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَولَهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلُ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الأعراف: ۱۷۷) اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان (نشانوں) کے ذریعہ سے اونچا کر دیتے۔لیکن وہ زمین کی طرف جاگرا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑا۔پس اس کی حالت اس کتنے کی حالت کی طرح ہے جسے مارنے کے لئے تو کوئی چیز اٹھائے تو بھی وہ ہانپتا رہتا ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو بھی وہ ہانپتار بہتا ہے۔یہی حال اس قوم کا ہے جو ہمارے نشانوں کو جھٹلاتے ہیں۔پس تو یہ حالات ان کوسنا، تاکہ وہ کچھ سوچیں۔تاریخ ابن خلدون الباب الرابع من الكتاب الأول فى البلدان، الفصل السادس في المساجد، جزء اول صفحه ۴۳۵)